جماعت اسلامی کے ایم پی اے نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ کے بدلے پیسے لینے کی حامی بھرلی اور پھر…

Please Subscribe my chanel.

Please support me and Subscribe my chanel… https://youtube.com/channel/UC3qywGd8wt_fsalIbQrp23w

سندھ حکومت مان گئی، جماعت اسلامی کا دھرنا کامیاب.

جماعت اسلامی کا 29 روزہ دھرنا بالآخر اختتام کو پہنچا. اس دھرنے کا اختتام انتہائی خوشگوار ہوا ہے کیونکہ آخرکار سندھ کی صوبائی حکومت نے جمہوری اقدار کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ جاری مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچایا. جماعت اسلامی کے 90 فیصد مطالبات تسلیم کرلئے گئے اور باقاعدہ سندھ حکومت نے جماعت اسلامی کراچی کی قیادت کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا ہے جس کے نتیجے میں امیر جماعت اسلامی کراچی جناب حافظ نعیم الرحمن نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا.معاہدے میں مئیر کراچی کے اختیارات بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور کے ایم سی کو تقریباً تمام ادارے اور محکمے واپس کردیئے گئے ہیں. فنانس کمیشن میں میئر کراچی و ٹاؤن کمیٹیز کو شامل کیا گیا اور فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے بھی فارمولا طے با گیا ہے.جو مطالبات باقی ہیں ان کے حل کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے.کراچی کو حق مل گیا اور پاکستانیوں کو یہ سبق کہ اسلامی اور جمہوری اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار ہونا ممکن ہے ۔اس دھرنے میں نہ تو ڈھول باجے تھے نہ کسی پائل کی جھنکار اور نہ مخالفین کے لئے گالی گلوچ تھی،اب یہ آنے والے مئیر پر منحصر ہے کہ وہ عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان کی تقلید کرکے کراچي کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بناتا ہے یا ایم کیو ایم کی تقلید کرکے شہر کو اجاڑ دیتا ہے ۔اصل امتحان عوام کا ہے کہ وہ شہر کراچی کو محافظین کے حوالے کر دیتے ہیں یا محاربین کے ۔جماعت اسلامی کراچی نے یوم تشکر منایا ہے.پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے اس معاہدے کی شدید مخالفت کی ہے اور دونوں پارٹیوں نے مشترکہ اور الگ الگ پریس کانفرنسوں میں اس معاہدے پر شدید تنقید کی ہے. جماعت اسلامی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے.ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما اظہار الحق، فاروق ستار اور اسی طرح پی ٹی آئی کی کراچی کی قیادت بھی شدید صدمے، رنج اور دکھ کی کیفیت میں ہیں. کچھ روز پہلے پی ٹی آئی نے بھی متنازعہ بلدیاتی قانون کے خلاف دھرنا دیا تھا لیکن وہ کراچی کے عوام کو متوجہ کرنے میں ناکام رہے اسی طرح ایم کیو ایم نے بھی سو دو سو کارکنان کے ساتھ احتجاج کیا لیکن عوام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ان کا احتجاج فلاپ ہوگیا ایم کیو ایم نے روائتی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن یہاں بھی وہ کامیاب نہیں ہوسکے. یہ ایم کیو ایم ہی تھی جس نے 2013ء میں صوبائی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کئے تھے جس کے تحت کے ایم سی کے بہت سے محکمے یا ادارے صوبائی حکومت کے حوالے کر دئیے یعنی کے ایم سی کو وسائل کے اور اختیارات کے حوالے سے بے دست و پا کرنے کی ابتداء 2013ء میں ایم کیو ایم نے کی اور 2021ء میں پیپلز پارٹی نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا. اب جبکہ کے ایم سی کو پیشتر وسائل و اختیارات واپس مل رہے ہیں تو بحیثیت سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور پی ٹی آئی کی مخالفت اور چیخ و پکار سمجھ سے بالاتر ہے. گویا ہم ان کے اس رویے کی بنیاد پر کہ سکتے ہیں کہ وہ کے ایم سی کے پاس اختیارات اور وسائل نہیں دیکھنا چاہتے. گویا یہ دونوں پارٹیاں چاہتی ہیں کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن محض ایک علامتی ادارہ بن کر رہ جائے. ہم ان دونوں پارٹیوں کے اس رویہ کی بنیاد پر سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں پارٹیاں کراچی کا اقتدار تو چاہتی ہیں لیکن عوام کے مسائل کا حل نہیں چاہتی، عوام کی تکالیف اور مشکلات کا خاتمہ نہیں چاہتی. بہرحال اس سب کے باوجود یہ کریڈٹ جماعت اسلامی کو سو فیصد جاتا ہے کہ امیر جماعت اسلامی کراچی جناب حافظ نعیم الرحمن صاحب کی قیادت میں ایک خالصتاً عوامی ایشو پر نہایت جرات، پامردی،اور استقامت و دانش مندی کے ساتھ نہایت نظم و ضبط کے ساتھ، بالکل عین جمہوری اقدار کے مطابق، اپنےآئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا، دھرنا دیا گیا، اس دوران کوئی ایک گملا تک نہیں ٹوٹا،سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو نقصان نہیں پہنچا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار نہیں کی گئی، مذاکرات کے لئے دروازے کھلے رکھے گئے، پیپلزپارٹی کے وفود کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا گیا، ان پر ہوٹنگ نہیں کی گئی، جملے نہیں کسے گئے بلکہ ان کی بہترین انداز میں مہمان نوازی کی گئی. یہی جمہوریت ہے اور یہی جمہوریت کا تقاضا بھی ہے اور اسے جمہوریت کا حسن کہتے ہیں.جماعت اسلامی کی قیادت و کارکنان بجا طور پر خراج تحسین اور مبارک باد کے مستحق ہیں. اب گیند صوبائی حکومت کے کورٹ میں ہے. معاہدے پر عملدرآمد کیلئے پیپلز پارٹی نے اطلاعات کے مطابق 2 فروری کو اجلاس طلب کیا ہے. آنے والا وقت پیپلز پارٹی کے اخلاس نیت کو ظاہر کردے گا. اگر پیپلز پارٹی درست نیت کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں یقیناً کراچی میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی اور اس کا سہرا جماعت اسلامی کے سر ہوگا.https://youtu.be/hfYaznBs_es

جماعت اسلامی کی تحریک، عوامی رسپانس اور کارکنان کے فرائض…

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق دیرپائن میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے.

جماعت اسلامی نے چوتھا پڑاؤ دیرپائن کے ریسٹ ہاؤس گراؤنڈ میں ڈالا اور پہلے تینوں پڑاؤ کے ریکارڈ توڑ ڈالے، پہلا جلسہ باجوڑ میں تھا جس میں باجوڑ کے عوام نے دل کھول کر جماعت اسلامی کو خوش آمدید کہا اور جلسے میں شرکت کی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، یہ ایک عوامی سمندر تھا جو امڈ آیا تھا، واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے یہ جلسہ عام تن تنہا منعقد کیا اور اس میں صرف ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا دیگر اضلاع سے لوگوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی. جماعت اسلامی نے دوسرا جلسہ بونیر میں کیا، اس دوسرے جلسہ عام کی

دیر پائین جلسہ عام کا ایک منظر

انفرادیت یہی تھی کہ صرف متعلقہ ضلع کے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا اور جماعت اسلامی نے تن تنہا جلسہ گاہ کو اس طرح بھردیا کہ پہلے جلسے کا ریکارڈ توڑ دیا. اس کے مقابلے میں پی ڈی ایم جتنے جلسے کررہی ہے اسے جلسہ گاہوں کو بھرنے کے لئے کافی تگ و دو کرنی پڑتی ہے،گیارہ جماعتی اس اتحاد کو الیکٹرانک میڈیا پر کوریج بھی جماعت اسلامی سے زیادہ مل رہی ہے لیکن اس کے باوجود جماعت اسلامی کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو رہا ہے. جماعت اسلامی نے تیسرے جلسے کا اعلان سوات کے گراسی گراؤنڈ پر کیا تھا لیکن پی ٹی آئی حکومت پہلے دو جلسوں سے ہی گھبرا گئی اور جلسے کے انعقاد کی اجازت نہ دے کر سوچا کہ جماعت اسلامی کو دبالیں گے لیکن جماعت کی قیادت نے سوات ہائی کورٹ بنچ سے رجوع کیا اور جلسہ کی اجازت حاصل کرلی، یہ جلسہ پہلے دونوں

سوات جلسہ عام کا منظر

جلسوں سے بڑا ثابت ہوا، جماعت نے دیر پائین میں اپنے چوتھے جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ یہ جلسہ عام پہلے تینوں جلسوں سے بڑا ہوگا اور جماعت اسلامی دیر پائین نے اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کردیا. ان چاروں جلسوں کے دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب کی والدہ محترمہ بھی وفات پا گئیں، جناب سینیٹر سراج الحق صاحب اس حوالے سے بھی مصروف رہے دریں اثناء امیر جماعت اسلامی نے منصورہ جماعت اسلامی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں 11 نکاتی عوامی چارٹر کا اعلان بھی کیا، یہ عوامی چارٹر عوام کے تمام بڑے مسائل کا نہ صرف احاطہ کرتا ہے بلکہ ملک کو داخلی اور

جماعت اسلامی کا 11 نکاتی عوامی چارٹر

خارجی، سیاسی، سماجی ،معاشرتی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کا حل بھی پیش کرتا ہے. آج کے جلسے میں جناب سینیٹر سراج الحق صاحب نے دو ہفتوں کے لئے کرونا کی وجہ سے تمام عوامی جلسوں کو روکنے کا اعلان کرتے ہوئے، دوہفتے بعد پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ سے دوبارہ تحریک کے آغاز اور جلسہ عام کے انعقاد کا اعلان بھی کیا ہے.
جماعت اسلامی کے ان چاروں کامیاب پاور شوز کے بعد ملک بھر کے تحریکی کارکنان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اب غیرفعالیت کے لحاف سے نکلیں اور عوام کے دروازوں اور دلوں پر دستک دیں. اس وقت ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہوچکا ہے، اگر جماعت اسلامی چاہے تو یہ خلاء پر کرسکتی ہے شرط یہ ہے کہ اس کے کارکن کو ایگریسو ہونا پڑے گا، ایگریسو سے مراد خدانخواستہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ کارکنان ڈنڈے سوٹے اٹھالیں بلکہ ایگریسو اس لحاظ سے کہ وہ اب گھروں سے نکلیں، اپنے واضح اور دوٹوک بیانیہ کو عوام تک پہنچائیں. جماعت اسلامی کے ماہانہ چاراجتماعات ہوتے ہیں جن میں ایک پروگرام دعوتی وفود کا ہے، جماعت کے کارکنان اسے باقاعدہ اور مربوط بنائیں، اگلے چند ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے، وفود کی شکل میں گھر گھر لوگوں تک پہنچا جائے، خاص طور پر یہ

دیر پائین میں جلسہ عام کا ویڈیو منظر

جو دو ہفتے کا وقفہ رکھا گیا ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تنظیمی ایمرجنسی کے ذریعے اگلے 15 سے 20 دن لوگوں تک 11 نکاتی عوامی چارٹر پہنچایا جائے. میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے کارکنان جنگی بنیادوں پر اس طرح متحرک ہو جائیں تو صرف یہی نہیں کہ جماعت اسلامی سیاسی منظر نامے پر ایک نئے انداز میں ابھرے گی بلکہ مقتدر قوتوں کے لئے اس کا راستہ روکنا بھی اتنا آسان نہیں ہوگا.
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے.

سوشل میڈیا شتر بے مہار….

سوشل میڈیا کے حوالے سے عنایت اللہ کامران کی فکر انگیز تحریر.

سوشل میڈیا شتر بے مہارآج کل سوشل میڈیا کا دور ہے.کم و بیش ہر شخص جس کے پاس سمارٹ فون ہے وہ فیس بک ضرور استعمال کرتا ہے. جبکہ جو ذرا زیادہ تعلیم یافتہ اور سوشل میڈیا کے حوالے سے اپ ٹو ڈیٹ ہیں یا میچور ہیں وہ ٹوئٹر بھی استعمال کرتے ہیں، وٹس ایپ، انسٹا گرام وغیرہ بھی بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں.

پاکستان میں سب سے زیادہ صارف فیس بک کے ہیں جو کروڑوں میں ہیں، سوشل میڈیا ایک ایسا ٹول ہے جس نے کئی بار الیکٹرانک میڈیا کی بھی ایسی تیسی کردی، چھوٹے سے موبائل نے بڑے بڑوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا.

ہر چیز کے مثبت اور منفی استعمال ہوتے ہیں، سوشل میڈیا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، بدقسمتی سے سوشل میڈیا باالخصوص فیس بک کا منفی استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، سوشل میڈیا شتر بے مہار بن چکا ہے اور حکومت پاکستان کا سائبر کرائم ایکٹ نوحہ کناں اور بے بس نظر آرہا ہے.

سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن کررہے ہیں، ان کا استعمال دیکھ کر زبان سے لاحول ولا قوۃ اور الامان الحفیظ کے الفاظ زبان سے نکلتے ہیں، گویا بندر کے ہاتھوں میں استرا آگیا ہے، اخلاقیات، دین، ایمان، شرم و حیا وغیرہ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ گھڑنے کے علاوہ شرفاء و معززین کی پگڑیاں بھی اچھالنا معمول بن گیا ہے.

سیاسی مخالفین کے استہزاء آمیز کارٹونز، فوٹوشاپ کے ذریعے ایڈٹ شدہ تصاویر کے ذریعے مخالفین کو بدنام کرنا، من گھڑت الزامات پر مبنی تحریروں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا، ایڈٹ شدہ وڈیوز کے ذریعے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ وغیرہ، مختلف طریقوں سے اپنی پارٹی کے حق میں زور صرف کیا جاتا ہے.

رونا یہ ہے کہ ان سب باتوں سے نہ تو کوئی پارٹی اپنے کارکنوں کو روکتی ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی ایسا مکینزم ہے کہ یہ سلسلہ روکا جائے. بلکہ الٹا اکثر پارٹیاں تو مخالف پارٹیوں کے خلاف اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو جھوٹا سچا مواد فراہم کر کے ایک لحاظ سے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ کوئی سیاسی، سماجی، تجارتی، صحافتی و علمی اور مذہبی شخصیت کی عزت محفوظ نہیں ہے. سوچنا یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا؟ کیا اخلاقیات اور شرم و حیا سے عاری ان نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی کوئی اخلاقی تربیت بھی کرے گا یا یہ سوشل میڈیا پر شتر بے مہار غلاظت پھیلاتے رہیں گے؟