جماعت اسلامی کی تحریک، عوامی رسپانس اور کارکنان کے فرائض…

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق دیرپائن میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے.

جماعت اسلامی نے چوتھا پڑاؤ دیرپائن کے ریسٹ ہاؤس گراؤنڈ میں ڈالا اور پہلے تینوں پڑاؤ کے ریکارڈ توڑ ڈالے، پہلا جلسہ باجوڑ میں تھا جس میں باجوڑ کے عوام نے دل کھول کر جماعت اسلامی کو خوش آمدید کہا اور جلسے میں شرکت کی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، یہ ایک عوامی سمندر تھا جو امڈ آیا تھا، واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے یہ جلسہ عام تن تنہا منعقد کیا اور اس میں صرف ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا دیگر اضلاع سے لوگوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی. جماعت اسلامی نے دوسرا جلسہ بونیر میں کیا، اس دوسرے جلسہ عام کی

دیر پائین جلسہ عام کا ایک منظر

انفرادیت یہی تھی کہ صرف متعلقہ ضلع کے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا اور جماعت اسلامی نے تن تنہا جلسہ گاہ کو اس طرح بھردیا کہ پہلے جلسے کا ریکارڈ توڑ دیا. اس کے مقابلے میں پی ڈی ایم جتنے جلسے کررہی ہے اسے جلسہ گاہوں کو بھرنے کے لئے کافی تگ و دو کرنی پڑتی ہے،گیارہ جماعتی اس اتحاد کو الیکٹرانک میڈیا پر کوریج بھی جماعت اسلامی سے زیادہ مل رہی ہے لیکن اس کے باوجود جماعت اسلامی کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو رہا ہے. جماعت اسلامی نے تیسرے جلسے کا اعلان سوات کے گراسی گراؤنڈ پر کیا تھا لیکن پی ٹی آئی حکومت پہلے دو جلسوں سے ہی گھبرا گئی اور جلسے کے انعقاد کی اجازت نہ دے کر سوچا کہ جماعت اسلامی کو دبالیں گے لیکن جماعت کی قیادت نے سوات ہائی کورٹ بنچ سے رجوع کیا اور جلسہ کی اجازت حاصل کرلی، یہ جلسہ پہلے دونوں

سوات جلسہ عام کا منظر

جلسوں سے بڑا ثابت ہوا، جماعت نے دیر پائین میں اپنے چوتھے جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ یہ جلسہ عام پہلے تینوں جلسوں سے بڑا ہوگا اور جماعت اسلامی دیر پائین نے اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کردیا. ان چاروں جلسوں کے دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب کی والدہ محترمہ بھی وفات پا گئیں، جناب سینیٹر سراج الحق صاحب اس حوالے سے بھی مصروف رہے دریں اثناء امیر جماعت اسلامی نے منصورہ جماعت اسلامی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں 11 نکاتی عوامی چارٹر کا اعلان بھی کیا، یہ عوامی چارٹر عوام کے تمام بڑے مسائل کا نہ صرف احاطہ کرتا ہے بلکہ ملک کو داخلی اور

جماعت اسلامی کا 11 نکاتی عوامی چارٹر

خارجی، سیاسی، سماجی ،معاشرتی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کا حل بھی پیش کرتا ہے. آج کے جلسے میں جناب سینیٹر سراج الحق صاحب نے دو ہفتوں کے لئے کرونا کی وجہ سے تمام عوامی جلسوں کو روکنے کا اعلان کرتے ہوئے، دوہفتے بعد پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ سے دوبارہ تحریک کے آغاز اور جلسہ عام کے انعقاد کا اعلان بھی کیا ہے.
جماعت اسلامی کے ان چاروں کامیاب پاور شوز کے بعد ملک بھر کے تحریکی کارکنان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اب غیرفعالیت کے لحاف سے نکلیں اور عوام کے دروازوں اور دلوں پر دستک دیں. اس وقت ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہوچکا ہے، اگر جماعت اسلامی چاہے تو یہ خلاء پر کرسکتی ہے شرط یہ ہے کہ اس کے کارکن کو ایگریسو ہونا پڑے گا، ایگریسو سے مراد خدانخواستہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ کارکنان ڈنڈے سوٹے اٹھالیں بلکہ ایگریسو اس لحاظ سے کہ وہ اب گھروں سے نکلیں، اپنے واضح اور دوٹوک بیانیہ کو عوام تک پہنچائیں. جماعت اسلامی کے ماہانہ چاراجتماعات ہوتے ہیں جن میں ایک پروگرام دعوتی وفود کا ہے، جماعت کے کارکنان اسے باقاعدہ اور مربوط بنائیں، اگلے چند ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے، وفود کی شکل میں گھر گھر لوگوں تک پہنچا جائے، خاص طور پر یہ

دیر پائین میں جلسہ عام کا ویڈیو منظر

جو دو ہفتے کا وقفہ رکھا گیا ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تنظیمی ایمرجنسی کے ذریعے اگلے 15 سے 20 دن لوگوں تک 11 نکاتی عوامی چارٹر پہنچایا جائے. میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے کارکنان جنگی بنیادوں پر اس طرح متحرک ہو جائیں تو صرف یہی نہیں کہ جماعت اسلامی سیاسی منظر نامے پر ایک نئے انداز میں ابھرے گی بلکہ مقتدر قوتوں کے لئے اس کا راستہ روکنا بھی اتنا آسان نہیں ہوگا.
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے.

سوشل میڈیا شتر بے مہار….

سوشل میڈیا کے حوالے سے عنایت اللہ کامران کی فکر انگیز تحریر.

سوشل میڈیا شتر بے مہارآج کل سوشل میڈیا کا دور ہے.کم و بیش ہر شخص جس کے پاس سمارٹ فون ہے وہ فیس بک ضرور استعمال کرتا ہے. جبکہ جو ذرا زیادہ تعلیم یافتہ اور سوشل میڈیا کے حوالے سے اپ ٹو ڈیٹ ہیں یا میچور ہیں وہ ٹوئٹر بھی استعمال کرتے ہیں، وٹس ایپ، انسٹا گرام وغیرہ بھی بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں.

پاکستان میں سب سے زیادہ صارف فیس بک کے ہیں جو کروڑوں میں ہیں، سوشل میڈیا ایک ایسا ٹول ہے جس نے کئی بار الیکٹرانک میڈیا کی بھی ایسی تیسی کردی، چھوٹے سے موبائل نے بڑے بڑوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا.

ہر چیز کے مثبت اور منفی استعمال ہوتے ہیں، سوشل میڈیا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، بدقسمتی سے سوشل میڈیا باالخصوص فیس بک کا منفی استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، سوشل میڈیا شتر بے مہار بن چکا ہے اور حکومت پاکستان کا سائبر کرائم ایکٹ نوحہ کناں اور بے بس نظر آرہا ہے.

سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن کررہے ہیں، ان کا استعمال دیکھ کر زبان سے لاحول ولا قوۃ اور الامان الحفیظ کے الفاظ زبان سے نکلتے ہیں، گویا بندر کے ہاتھوں میں استرا آگیا ہے، اخلاقیات، دین، ایمان، شرم و حیا وغیرہ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ گھڑنے کے علاوہ شرفاء و معززین کی پگڑیاں بھی اچھالنا معمول بن گیا ہے.

سیاسی مخالفین کے استہزاء آمیز کارٹونز، فوٹوشاپ کے ذریعے ایڈٹ شدہ تصاویر کے ذریعے مخالفین کو بدنام کرنا، من گھڑت الزامات پر مبنی تحریروں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا، ایڈٹ شدہ وڈیوز کے ذریعے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ وغیرہ، مختلف طریقوں سے اپنی پارٹی کے حق میں زور صرف کیا جاتا ہے.

رونا یہ ہے کہ ان سب باتوں سے نہ تو کوئی پارٹی اپنے کارکنوں کو روکتی ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی ایسا مکینزم ہے کہ یہ سلسلہ روکا جائے. بلکہ الٹا اکثر پارٹیاں تو مخالف پارٹیوں کے خلاف اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو جھوٹا سچا مواد فراہم کر کے ایک لحاظ سے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ کوئی سیاسی، سماجی، تجارتی، صحافتی و علمی اور مذہبی شخصیت کی عزت محفوظ نہیں ہے. سوچنا یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا؟ کیا اخلاقیات اور شرم و حیا سے عاری ان نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی کوئی اخلاقی تربیت بھی کرے گا یا یہ سوشل میڈیا پر شتر بے مہار غلاظت پھیلاتے رہیں گے؟