جماعت اسلامی کی تحریک، عوامی رسپانس اور کارکنان کے فرائض…

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق دیرپائن میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے.

جماعت اسلامی نے چوتھا پڑاؤ دیرپائن کے ریسٹ ہاؤس گراؤنڈ میں ڈالا اور پہلے تینوں پڑاؤ کے ریکارڈ توڑ ڈالے، پہلا جلسہ باجوڑ میں تھا جس میں باجوڑ کے عوام نے دل کھول کر جماعت اسلامی کو خوش آمدید کہا اور جلسے میں شرکت کی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، یہ ایک عوامی سمندر تھا جو امڈ آیا تھا، واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے یہ جلسہ عام تن تنہا منعقد کیا اور اس میں صرف ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا دیگر اضلاع سے لوگوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی. جماعت اسلامی نے دوسرا جلسہ بونیر میں کیا، اس دوسرے جلسہ عام کی

دیر پائین جلسہ عام کا ایک منظر

انفرادیت یہی تھی کہ صرف متعلقہ ضلع کے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا اور جماعت اسلامی نے تن تنہا جلسہ گاہ کو اس طرح بھردیا کہ پہلے جلسے کا ریکارڈ توڑ دیا. اس کے مقابلے میں پی ڈی ایم جتنے جلسے کررہی ہے اسے جلسہ گاہوں کو بھرنے کے لئے کافی تگ و دو کرنی پڑتی ہے،گیارہ جماعتی اس اتحاد کو الیکٹرانک میڈیا پر کوریج بھی جماعت اسلامی سے زیادہ مل رہی ہے لیکن اس کے باوجود جماعت اسلامی کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو رہا ہے. جماعت اسلامی نے تیسرے جلسے کا اعلان سوات کے گراسی گراؤنڈ پر کیا تھا لیکن پی ٹی آئی حکومت پہلے دو جلسوں سے ہی گھبرا گئی اور جلسے کے انعقاد کی اجازت نہ دے کر سوچا کہ جماعت اسلامی کو دبالیں گے لیکن جماعت کی قیادت نے سوات ہائی کورٹ بنچ سے رجوع کیا اور جلسہ کی اجازت حاصل کرلی، یہ جلسہ پہلے دونوں

سوات جلسہ عام کا منظر

جلسوں سے بڑا ثابت ہوا، جماعت نے دیر پائین میں اپنے چوتھے جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ یہ جلسہ عام پہلے تینوں جلسوں سے بڑا ہوگا اور جماعت اسلامی دیر پائین نے اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کردیا. ان چاروں جلسوں کے دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب کی والدہ محترمہ بھی وفات پا گئیں، جناب سینیٹر سراج الحق صاحب اس حوالے سے بھی مصروف رہے دریں اثناء امیر جماعت اسلامی نے منصورہ جماعت اسلامی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں 11 نکاتی عوامی چارٹر کا اعلان بھی کیا، یہ عوامی چارٹر عوام کے تمام بڑے مسائل کا نہ صرف احاطہ کرتا ہے بلکہ ملک کو داخلی اور

جماعت اسلامی کا 11 نکاتی عوامی چارٹر

خارجی، سیاسی، سماجی ،معاشرتی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کا حل بھی پیش کرتا ہے. آج کے جلسے میں جناب سینیٹر سراج الحق صاحب نے دو ہفتوں کے لئے کرونا کی وجہ سے تمام عوامی جلسوں کو روکنے کا اعلان کرتے ہوئے، دوہفتے بعد پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ سے دوبارہ تحریک کے آغاز اور جلسہ عام کے انعقاد کا اعلان بھی کیا ہے.
جماعت اسلامی کے ان چاروں کامیاب پاور شوز کے بعد ملک بھر کے تحریکی کارکنان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اب غیرفعالیت کے لحاف سے نکلیں اور عوام کے دروازوں اور دلوں پر دستک دیں. اس وقت ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہوچکا ہے، اگر جماعت اسلامی چاہے تو یہ خلاء پر کرسکتی ہے شرط یہ ہے کہ اس کے کارکن کو ایگریسو ہونا پڑے گا، ایگریسو سے مراد خدانخواستہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ کارکنان ڈنڈے سوٹے اٹھالیں بلکہ ایگریسو اس لحاظ سے کہ وہ اب گھروں سے نکلیں، اپنے واضح اور دوٹوک بیانیہ کو عوام تک پہنچائیں. جماعت اسلامی کے ماہانہ چاراجتماعات ہوتے ہیں جن میں ایک پروگرام دعوتی وفود کا ہے، جماعت کے کارکنان اسے باقاعدہ اور مربوط بنائیں، اگلے چند ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے، وفود کی شکل میں گھر گھر لوگوں تک پہنچا جائے، خاص طور پر یہ

دیر پائین میں جلسہ عام کا ویڈیو منظر

جو دو ہفتے کا وقفہ رکھا گیا ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تنظیمی ایمرجنسی کے ذریعے اگلے 15 سے 20 دن لوگوں تک 11 نکاتی عوامی چارٹر پہنچایا جائے. میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے کارکنان جنگی بنیادوں پر اس طرح متحرک ہو جائیں تو صرف یہی نہیں کہ جماعت اسلامی سیاسی منظر نامے پر ایک نئے انداز میں ابھرے گی بلکہ مقتدر قوتوں کے لئے اس کا راستہ روکنا بھی اتنا آسان نہیں ہوگا.
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے.

سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کے خلاف حکومتی اقدامات

ایک دور تھا جب پاکستان میں صرف پی ٹی وی کا طوطی بولتا تھا، یا پھر ریڈیو پاکستان سے ہوا کی لہروں پر پاکستان کی عوام کو "باخبر” رکھا جاتا تھا یا اخبارات کے ذریعے ملک کے حالات لوگوں تک پہنچتے تھے. سرکاری ٹی وی اور ریڈیو وہی کچھ دکھاتا اور بتاتا تھا جو حکومت چاہتی تھی جبکہ اخبارات قدرے آزاد تھے تاہم پرنٹ میڈیا کے ذریعے عوام تک خبر پہنچتے پہنچتے باسی ہو جاتی تھی.پھر حالات نے انگڑائی لی اور نجی ٹی وی چینلز کا دور آیا.یہ چینلز آئے اور چھا گئے. نجی ٹی وی چینلز نے پی ٹی وی کی اجارہ داری کا خاتمہ کر دیا اور لوگوں تک پل پل کی خبریں پہنچنے لگیں، یہ چینلز وہ کچھ بھی دکھانے لگے جو سرکار اس سے قبل سرکاری ٹی وی پر نہیں دکھاتی تھی تاہم پھر بھی نجی ٹی وی چینلز بہت کچھ نہیں دکھاتے تھے،چینل، ریڈیو اور اخبار سرکاری ہو یا نجی بہرحال عوام وہ کچھ دیکھنے سے محروم تھے جو وہ دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن سوشل میڈیا نے ان سب کی اجارا داری کا خاتمہ ہی نہیں کر دیا بلکہ ان کے لیے چیلنج بھی بن گیا کیونکہ اس کا ریموٹ استعمال کرنے والے کے ہاتھ میں ہے.ایک اندازے کے مطابق ملک میں 20 کروڑ افراد اینڈرائیڈ موبائل استعمال کرتے ہیں.اینڈرائیڈ ٹی وی چینلز کو ماضی کا قصہ بنانے جا رہا ہے.
اب سوشل میڈیا پر ہی لوگ وہی کچھ دیکھ اور پیش کر رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں. جلد ہی وہ دور آنے والا ہے جب سوشل میڈیا ہی الیکٹرانک میڈیا کی جگہ مکمل طور پر لے لے گا اور الیکٹرانک میڈیا کی افادیت محض آج کل کے پرنٹ میڈیا جتنی ہی رہ جائے گی.
سرکار پہلے ہی نجی چینلز سے پریشان تھی اوپر سے سوشل میڈیا نے تو سرکار کی نیندیں ہی حرام کر دیں، حالانکہ اقتدار کی مسند تک پہنچنے کے لئے موجودہ سرکار نے سوشل میڈیا کو بطور ایک مؤثر ہتھیار کے استعمال کیا اور اب بھی یہ استعمال جاری ہے.
سوشل میڈیا پر وہ کیا چیز ہے جو دستیاب نہیں ہے. سوشل میڈیا صارف جس قسم کا مزاج اور رجحان رکھتا ہے یہاں اپنے رجحانات کے مطابق اسے مطلوبہ مواد مل جاتا ہے. یہاں آپ کو ذاتی سرگرمیوں کے علاوہ سیاسی، سماجی، مذہبی، صحافتی ،تجارتی غرض ہر طرح کا مواد تھوک کے حساب سے ملے گا. سوشل میڈیا کا مؤثر و مثبت استعمال بھی ہے اور منفی بھی، موجودہ سرکار سے وابستگان کشتگان انقلاب سب سے زیادہ اسے مخالف پارٹیز کی پگڑیاں اچھالنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں، اردو کا محاورہ ہے "جیسا کرو گے، ویسا بھروگے، اسی طرح کشش ثقل کا نیوٹن کا ” ہر عمل کا ردعمل” والا اصول سوشل میڈیا پر خاص طور پر موجودہ حکومت کے حوالے سے صادق آتا ہے، جو کچھ کیا گیا اور جن کے خلاف کیا گیا وہاں سے اضافے کے ساتھ واپس آرہا ہے، چنانچہ سننے میں آرہا ہے کہ اب سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی خیر نہیں ہے، حکومت اب ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے جا رہی ہے، مشرف دور میں نجی ٹی وی چینلز اور معروف اینکر پرسنز پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، لیکن بالآخر یہ پابندیاں ختم کرنا پڑیں، ان پابندیوں کے خاتمے کے لئے صحافتی تاریخ میں ایک عظیم الشان جدوجہد کی گئی، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر قدغنیں لگانا قدرے آسان ہے لیکن سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ) کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ سوشل میڈیا کا ہیڈکوارٹر کہیں اور ہے وہاں ہماری حکومت کی دال نہیں گلتی، سو اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کے خلاف ہی کارروائی کی جائے، کریک ڈاؤن کا اعلان حکومتی سطح پر کیا جا چکا ہے، ہم خود ایسے مواد کے خلاف ہیں جو اسلام کے اخلاقی و شرعی اصولوں اور احکامات کے خلاف ہو، جس میں اسلام، پاکستان، نظریہ پاکستان اور جملہ مذاہب کی برگزیدہ ہستیوں پر طعن و تشنیع کی گئی ہو.
ہم ہر ایسی تحریر اور پوسٹ کے خلاف ہیں جس میں ایڈوب فوٹو شاپ کے ذریعے سیاستدانوں(چاہے وہ اہل اقتدار ہیں یا حزب اختلاف)، مذہبی و سماجی شخصیات کے چہرے بگاڑ کر پیش کئے جاتے ہیں، ایسی پوسٹس جن میں فوج اور سلامتی کے دیگر اداروں کے خلاف جھوٹی، بے سروپا اور من گھڑت باتیں کی گئی ہوں وہ بھی قابل مذمت ہیں، اسی طرح ذاتی یا سیاسی مفاد کی خاطر من گھڑت اور جھوٹے الزامات کے ذریعے سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے والی پوسٹس اپلوڈ کرنے والوں کے خلاف حکومتی اقدامات کی ہم تائید کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ باور کرانا بھی مقصود ہے کہ اگر حکومت سوشل میڈیا پر اپنے اوپر تنقید کو برداشت نہیں کر پا رہی اور اس کا حوصلہ اور اعصاب جواب دے گئے ہیں چنانچہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف پیدا ہونے والے ردعمل کو دبانے کے لئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں تو معاف کیجئے گا حکومت سخت غلطی پر ہے.
حکومت کو سوشل میڈیا پر قدغنیں لگانے سے قبل سوشل میڈیا صارفین کو اس بات کی یقین دہانی کرانی چاہیے کہ وہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو زیرعتاب نہیں لائے گی.
ویسے اگر آزادی اظہار رائے کے بین الاقوامی اصول کے تحت دیکھا جائے تو حکومت کے یہ اقدامات درست نہیں ہیں، تاہم اگر حکومت واقعی یہ کریک ڈاؤن صرف ان عناصر کے خلاف کرنا چاہتی ہے جو جھوٹ، منافرت اور انتشار پر مبنی پوسٹس لگاتے ہیں تب بھی حکومت کو سائبر کرائم ایکٹ کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہئے اور صرف وہی لوگ ہی اس کریک ڈاؤن کا شکار بنیں جو سائبر کرائم ایکٹ کے تحت واقعی آتے ہیں.
اگر حکومت نے خود پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس کا ردعمل حکومتی توقعات سے کہیں بڑھ کر سامنے آئے گا اور حکومت اس ردعمل کو برداشت نہیں کر سکے گی. ماضی میں پرویز مشرف حکومت نے بھی الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے پابندیاں عائد کی تھیں، حکومت کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے پرویز مشرف دور کی پابندیوں کو بھی دیکھ لے.
حکومت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ملک کے اندر تو کریک ڈاؤن کر کے اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبا لے گی لیکن بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور آزادی اظہار رائے کے حق میں کام کرنے والی تنظیموں کی آوازیں کیسے دبائی گی؟
حکومت کی کوئی بھی ایسی کوشش یا عمل جس میں اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کا تاثر سامنے آیا تو بین الاقوامی سطح پر ملک کا امیج خراب ہو گا اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جہاں عوام کو اپنی رائے کے اظہار کی اجازت نہیں ہے.

ففتھ جنریشن وار اور ہم

غلغلہ ہے کہ دنیا میں پانچویں نسل کی جنگ(ففتھ جنریشن وار) جاری ہے. یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں تیر و تفنگ، بندوق و توپ اور اس قبیل کا دوسرا خونریز اسلحہ استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ پروپیگنڈہ کے زور پر افراد یا قوم کی برین واشنگ(دماغی غسل) کے ذریعے انتشار و فساد پھیلا کر دشمن اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے.
دانشور اور تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ پاکستان بھی ففتھ جنریشن وار کی زد میں ہے. بہت سے لوگ اس سے انکار یا اس کی تردید کرتے ہیں لیکن اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ واقعی ہم بحیثیت مجموعی جہاں عمومی دہشت گردی کا شکار ہیں وہیں جنگ کی اس نئی قسم یعنی ففتھ جنریشن وار کا بھی شکار ہیں. گویا بحیثیت قوم ہمیں اپنی بقا و سلامتی کے لیے چومکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے.
ففتھ جنریشن وار جیسا کہ آپ کو بتایا ہے کہ ایک قسم کی پروپیگنڈہ مہم جوئی ہے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور آج کل سوشل میڈیا بھی شامل ہوگیا ہے کے ذریعے لڑی جاتی ہے.خیر دشمن سے تو توقع ہی یہی کی جانی چاہئے کہ وہ ہمیں چاروں شانے چت کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرے گا لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس جنگ میں ہمارے اپنے بھی دشمن کے شانہ بشانہ شریک ہیں بلکہ بعض اوقات دشمن سے بھی دو قدم آگے ہوتے ہیں.
آپ الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والے ڈرامے اور فلمیں دیکھ لیں، میوزک کے پروگرام دیکھ لیں اور ٹاک شوز اور خبریں دیکھ لیں، آپ کو ہر لمحہ دشمن کا ایجنڈا پورا ہوتا نظر آئے گا. نظریہ کسی بھی قوم کا اثاثہ اور اس کی بنیاد ہوتا ہے، جب تک قوم اپنے نظریہ سے وابستہ رہتی ہے اور اس کی حفاظت کرتی ہے تب تک دشمن اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن اگر قوم کے ذہن سے یہ نظریہ کھرچ دیا جائے، محو کر دیا جائے اور اسے لعوولعب کا رسیا بنا دیا جائے اور آستین کے سانپ کا کردار اپنے ہی ادا کرنے لگیں تو پھر دشمن کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں رہتی.
پاکستان اسلامی نظریہ کا حامل ہے اور اسی نظریہ کی بنیاد پر یہ وجود میں آیا تھا، وطن عزیز کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لیے ہمارا ازلی دشمن بھارت ہی نہیں امریکہ و اسرائیل بھی سرگرم عمل رہتے ہیں. میدان جنگ میں تو یہ اس قوم کو شکست دے نہیں سکتے اس لئے خفیہ ریشہ دوانیاں کرتے ہیں. قوم سے اس کا نظریہ چھیننے کے لئے انہوں نے نہایت کامیابی سے ففتھ جنریشن وار لڑی ہے اور اس
میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں. بدقسمتی سے اہل و وژنری قیادت کے فقدان کے باعث ہم بحیثیت قوم اس جنگ میں بہت خطرناک پوزیشن پر آکھڑے ہیں. ٹی وی چینلز کے ذریعے ہماری قوم کی کافی حد تک برین واشنگ کردی گئی ہے.
دین کے معاملے میں شکوک و شبہات پیدا کرکے، مولوی اور مدرسہ کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرکے، اسلام کے امیج کو مسخ کر کے، اور اسلامی تعلیمات میں غیر محسوس انداز میں تحریف کرکے، قوم کو اخلاقی اقدار سے ہٹا کر فحاشی اور عریانی کی طرف راغب کرکے اور قوم میں پیسے اور دولت کی حرص و ہوس پیدا کرکے دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہو چکا ہے،آپ دیکھیں کہ آج معاشرے کی صورت حال کیا ہے؟ ایک دوسرے سے لاتعلقی کا انداز، مشینوں کی طرح دن رات جائز و ناجائز طریقے سے دولت جمع کرنے کی ہوس، چھوٹی چھوٹی سی بات پر آپس کے جھگڑے، احتجاجی مظاہروں کے دوران جلاؤ گھیراؤ، املاک کو نقصان پہنچانا، دین سے دوری، یہ سب باتیں کیا ہیں، ففتھ جنریشن وار کی خبر دینے والوں کی مگر اس کے تدارک پر نہ کوئی توجہ ہے نہ ہی منصوبہ بندی، قوم کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس جنگ کو دشمن نے مسلسل جاری رکھا ہوا ہے لیکن ہمارے ارباب بست و کشاد نے شیخ سعدی کے بقول "پتھروں کو باندھ رکھا جبکہ کتوں کو کھلا چھوڑ رکھا ہے”.
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز پر فضول اور تخریبی پروگرام فوری طور پر بند کئے جائیں، دینی پروگراموں میں نام نہاد علماء کرام کی بجائے مستند اور معروف علماء کرام اور مفکرین و سکالرز کو بلایا جائے. تعلیمی نصاب سے سیکولر قسم کے مضامین خارج کر کے اسلام سے آگاہی کے مضامین شامل کئے جائیں. ٹاک شوز میں اخلاقی اقدار کی پابندی یقینی بنائی جائے اور پرنٹ میڈیا میں فحش صفحات ختم کئے جائیں. فحاشی اور فکری انتشار پھیلانے والے جرائد و اخبارات اور ٹی وی پروگراموں پر پابندی عائد کی جائے.
حب الوطنی پر مبنی پروگرام پیش کئے جائیں اور ٹی وی چینلز پر مار دھاڑ سے بھرپور فلموں پر بھی پابندی عائد کر دی جائے. مثبت فکر کو فروغ دیا جائے. اگر حکومت واقعی ففتھ جنریشن وار میں دشمن کو شکست دینے کی خواہاں ہے تو پھر اسے ٹھوس اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے نہ کہ محض چند بھاشن دے کر چین کی نیند سو جائے.

سوشل میڈیا شتر بے مہار….

سوشل میڈیا کے حوالے سے عنایت اللہ کامران کی فکر انگیز تحریر.

سوشل میڈیا شتر بے مہارآج کل سوشل میڈیا کا دور ہے.کم و بیش ہر شخص جس کے پاس سمارٹ فون ہے وہ فیس بک ضرور استعمال کرتا ہے. جبکہ جو ذرا زیادہ تعلیم یافتہ اور سوشل میڈیا کے حوالے سے اپ ٹو ڈیٹ ہیں یا میچور ہیں وہ ٹوئٹر بھی استعمال کرتے ہیں، وٹس ایپ، انسٹا گرام وغیرہ بھی بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں.

پاکستان میں سب سے زیادہ صارف فیس بک کے ہیں جو کروڑوں میں ہیں، سوشل میڈیا ایک ایسا ٹول ہے جس نے کئی بار الیکٹرانک میڈیا کی بھی ایسی تیسی کردی، چھوٹے سے موبائل نے بڑے بڑوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا.

ہر چیز کے مثبت اور منفی استعمال ہوتے ہیں، سوشل میڈیا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، بدقسمتی سے سوشل میڈیا باالخصوص فیس بک کا منفی استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، سوشل میڈیا شتر بے مہار بن چکا ہے اور حکومت پاکستان کا سائبر کرائم ایکٹ نوحہ کناں اور بے بس نظر آرہا ہے.

سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن کررہے ہیں، ان کا استعمال دیکھ کر زبان سے لاحول ولا قوۃ اور الامان الحفیظ کے الفاظ زبان سے نکلتے ہیں، گویا بندر کے ہاتھوں میں استرا آگیا ہے، اخلاقیات، دین، ایمان، شرم و حیا وغیرہ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ گھڑنے کے علاوہ شرفاء و معززین کی پگڑیاں بھی اچھالنا معمول بن گیا ہے.

سیاسی مخالفین کے استہزاء آمیز کارٹونز، فوٹوشاپ کے ذریعے ایڈٹ شدہ تصاویر کے ذریعے مخالفین کو بدنام کرنا، من گھڑت الزامات پر مبنی تحریروں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا، ایڈٹ شدہ وڈیوز کے ذریعے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ وغیرہ، مختلف طریقوں سے اپنی پارٹی کے حق میں زور صرف کیا جاتا ہے.

رونا یہ ہے کہ ان سب باتوں سے نہ تو کوئی پارٹی اپنے کارکنوں کو روکتی ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی ایسا مکینزم ہے کہ یہ سلسلہ روکا جائے. بلکہ الٹا اکثر پارٹیاں تو مخالف پارٹیوں کے خلاف اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو جھوٹا سچا مواد فراہم کر کے ایک لحاظ سے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ کوئی سیاسی، سماجی، تجارتی، صحافتی و علمی اور مذہبی شخصیت کی عزت محفوظ نہیں ہے. سوچنا یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا؟ کیا اخلاقیات اور شرم و حیا سے عاری ان نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی کوئی اخلاقی تربیت بھی کرے گا یا یہ سوشل میڈیا پر شتر بے مہار غلاظت پھیلاتے رہیں گے؟