ففتھ جنریشن وار اور ہم

غلغلہ ہے کہ دنیا میں پانچویں نسل کی جنگ(ففتھ جنریشن وار) جاری ہے. یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں تیر و تفنگ، بندوق و توپ اور اس قبیل کا دوسرا خونریز اسلحہ استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ پروپیگنڈہ کے زور پر افراد یا قوم کی برین واشنگ(دماغی غسل) کے ذریعے انتشار و فساد پھیلا کر دشمن اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے.
دانشور اور تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ پاکستان بھی ففتھ جنریشن وار کی زد میں ہے. بہت سے لوگ اس سے انکار یا اس کی تردید کرتے ہیں لیکن اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ واقعی ہم بحیثیت مجموعی جہاں عمومی دہشت گردی کا شکار ہیں وہیں جنگ کی اس نئی قسم یعنی ففتھ جنریشن وار کا بھی شکار ہیں. گویا بحیثیت قوم ہمیں اپنی بقا و سلامتی کے لیے چومکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے.
ففتھ جنریشن وار جیسا کہ آپ کو بتایا ہے کہ ایک قسم کی پروپیگنڈہ مہم جوئی ہے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور آج کل سوشل میڈیا بھی شامل ہوگیا ہے کے ذریعے لڑی جاتی ہے.خیر دشمن سے تو توقع ہی یہی کی جانی چاہئے کہ وہ ہمیں چاروں شانے چت کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرے گا لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس جنگ میں ہمارے اپنے بھی دشمن کے شانہ بشانہ شریک ہیں بلکہ بعض اوقات دشمن سے بھی دو قدم آگے ہوتے ہیں.
آپ الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والے ڈرامے اور فلمیں دیکھ لیں، میوزک کے پروگرام دیکھ لیں اور ٹاک شوز اور خبریں دیکھ لیں، آپ کو ہر لمحہ دشمن کا ایجنڈا پورا ہوتا نظر آئے گا. نظریہ کسی بھی قوم کا اثاثہ اور اس کی بنیاد ہوتا ہے، جب تک قوم اپنے نظریہ سے وابستہ رہتی ہے اور اس کی حفاظت کرتی ہے تب تک دشمن اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن اگر قوم کے ذہن سے یہ نظریہ کھرچ دیا جائے، محو کر دیا جائے اور اسے لعوولعب کا رسیا بنا دیا جائے اور آستین کے سانپ کا کردار اپنے ہی ادا کرنے لگیں تو پھر دشمن کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں رہتی.
پاکستان اسلامی نظریہ کا حامل ہے اور اسی نظریہ کی بنیاد پر یہ وجود میں آیا تھا، وطن عزیز کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لیے ہمارا ازلی دشمن بھارت ہی نہیں امریکہ و اسرائیل بھی سرگرم عمل رہتے ہیں. میدان جنگ میں تو یہ اس قوم کو شکست دے نہیں سکتے اس لئے خفیہ ریشہ دوانیاں کرتے ہیں. قوم سے اس کا نظریہ چھیننے کے لئے انہوں نے نہایت کامیابی سے ففتھ جنریشن وار لڑی ہے اور اس
میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں. بدقسمتی سے اہل و وژنری قیادت کے فقدان کے باعث ہم بحیثیت قوم اس جنگ میں بہت خطرناک پوزیشن پر آکھڑے ہیں. ٹی وی چینلز کے ذریعے ہماری قوم کی کافی حد تک برین واشنگ کردی گئی ہے.
دین کے معاملے میں شکوک و شبہات پیدا کرکے، مولوی اور مدرسہ کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرکے، اسلام کے امیج کو مسخ کر کے، اور اسلامی تعلیمات میں غیر محسوس انداز میں تحریف کرکے، قوم کو اخلاقی اقدار سے ہٹا کر فحاشی اور عریانی کی طرف راغب کرکے اور قوم میں پیسے اور دولت کی حرص و ہوس پیدا کرکے دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہو چکا ہے،آپ دیکھیں کہ آج معاشرے کی صورت حال کیا ہے؟ ایک دوسرے سے لاتعلقی کا انداز، مشینوں کی طرح دن رات جائز و ناجائز طریقے سے دولت جمع کرنے کی ہوس، چھوٹی چھوٹی سی بات پر آپس کے جھگڑے، احتجاجی مظاہروں کے دوران جلاؤ گھیراؤ، املاک کو نقصان پہنچانا، دین سے دوری، یہ سب باتیں کیا ہیں، ففتھ جنریشن وار کی خبر دینے والوں کی مگر اس کے تدارک پر نہ کوئی توجہ ہے نہ ہی منصوبہ بندی، قوم کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس جنگ کو دشمن نے مسلسل جاری رکھا ہوا ہے لیکن ہمارے ارباب بست و کشاد نے شیخ سعدی کے بقول "پتھروں کو باندھ رکھا جبکہ کتوں کو کھلا چھوڑ رکھا ہے”.
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز پر فضول اور تخریبی پروگرام فوری طور پر بند کئے جائیں، دینی پروگراموں میں نام نہاد علماء کرام کی بجائے مستند اور معروف علماء کرام اور مفکرین و سکالرز کو بلایا جائے. تعلیمی نصاب سے سیکولر قسم کے مضامین خارج کر کے اسلام سے آگاہی کے مضامین شامل کئے جائیں. ٹاک شوز میں اخلاقی اقدار کی پابندی یقینی بنائی جائے اور پرنٹ میڈیا میں فحش صفحات ختم کئے جائیں. فحاشی اور فکری انتشار پھیلانے والے جرائد و اخبارات اور ٹی وی پروگراموں پر پابندی عائد کی جائے.
حب الوطنی پر مبنی پروگرام پیش کئے جائیں اور ٹی وی چینلز پر مار دھاڑ سے بھرپور فلموں پر بھی پابندی عائد کر دی جائے. مثبت فکر کو فروغ دیا جائے. اگر حکومت واقعی ففتھ جنریشن وار میں دشمن کو شکست دینے کی خواہاں ہے تو پھر اسے ٹھوس اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے نہ کہ محض چند بھاشن دے کر چین کی نیند سو جائے.

سوشل میڈیا شتر بے مہار….

سوشل میڈیا کے حوالے سے عنایت اللہ کامران کی فکر انگیز تحریر.

سوشل میڈیا شتر بے مہارآج کل سوشل میڈیا کا دور ہے.کم و بیش ہر شخص جس کے پاس سمارٹ فون ہے وہ فیس بک ضرور استعمال کرتا ہے. جبکہ جو ذرا زیادہ تعلیم یافتہ اور سوشل میڈیا کے حوالے سے اپ ٹو ڈیٹ ہیں یا میچور ہیں وہ ٹوئٹر بھی استعمال کرتے ہیں، وٹس ایپ، انسٹا گرام وغیرہ بھی بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں.

پاکستان میں سب سے زیادہ صارف فیس بک کے ہیں جو کروڑوں میں ہیں، سوشل میڈیا ایک ایسا ٹول ہے جس نے کئی بار الیکٹرانک میڈیا کی بھی ایسی تیسی کردی، چھوٹے سے موبائل نے بڑے بڑوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا.

ہر چیز کے مثبت اور منفی استعمال ہوتے ہیں، سوشل میڈیا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، بدقسمتی سے سوشل میڈیا باالخصوص فیس بک کا منفی استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، سوشل میڈیا شتر بے مہار بن چکا ہے اور حکومت پاکستان کا سائبر کرائم ایکٹ نوحہ کناں اور بے بس نظر آرہا ہے.

سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن کررہے ہیں، ان کا استعمال دیکھ کر زبان سے لاحول ولا قوۃ اور الامان الحفیظ کے الفاظ زبان سے نکلتے ہیں، گویا بندر کے ہاتھوں میں استرا آگیا ہے، اخلاقیات، دین، ایمان، شرم و حیا وغیرہ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ گھڑنے کے علاوہ شرفاء و معززین کی پگڑیاں بھی اچھالنا معمول بن گیا ہے.

سیاسی مخالفین کے استہزاء آمیز کارٹونز، فوٹوشاپ کے ذریعے ایڈٹ شدہ تصاویر کے ذریعے مخالفین کو بدنام کرنا، من گھڑت الزامات پر مبنی تحریروں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا، ایڈٹ شدہ وڈیوز کے ذریعے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ وغیرہ، مختلف طریقوں سے اپنی پارٹی کے حق میں زور صرف کیا جاتا ہے.

رونا یہ ہے کہ ان سب باتوں سے نہ تو کوئی پارٹی اپنے کارکنوں کو روکتی ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی ایسا مکینزم ہے کہ یہ سلسلہ روکا جائے. بلکہ الٹا اکثر پارٹیاں تو مخالف پارٹیوں کے خلاف اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو جھوٹا سچا مواد فراہم کر کے ایک لحاظ سے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ کوئی سیاسی، سماجی، تجارتی، صحافتی و علمی اور مذہبی شخصیت کی عزت محفوظ نہیں ہے. سوچنا یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا؟ کیا اخلاقیات اور شرم و حیا سے عاری ان نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی کوئی اخلاقی تربیت بھی کرے گا یا یہ سوشل میڈیا پر شتر بے مہار غلاظت پھیلاتے رہیں گے؟