جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے زیر اہتمام 14 اگست کو ریلیوں کا اہتمام کیا جائے گا. حافظ سعد الرحمن صدر جے آئی یوتھ ضلع میانوالی.

حکومت مخالف تحریک،پی ڈی ایم اور جماعت اسلامی کا طرزعمل

جماعت اسلامی پاکستان حکومت مخالف تحریک میں پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں بلکہ الگ تحریک چلارہی ہے۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان و قیادت شاکی ہے کہ کیوں نہ جماعت اسلامی نے ان کے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک میں حصہ لیا؟جماعت اسلامی اس حوالے سے اپنا ایک نقطہ نظر رکھتی ہے،اور وہ نقطہ نظر بہت وزنی ہے جس کی تائید گذشتہ روز ایک سروے رپورٹ نے بھی کردی جس کا اہتمام پلس کنسلٹنٹ نے کیا تھا،جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق53 % لوگوں نے جماعت اسلامی کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کی موجودہ سیاسی و مذہبی پارٹیوں سے مختلف ہے،یہاں فیصلے کوئی فرد واحد نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے مجلس شوریٰ کا فورم موجود ہے،جبکہ ملک کی تینوں بڑی پارٹیوں کو ہی لے لیں تو یہ بات واضح ہے کہ ان کے فیصلے فرد واحد ہی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں،کارکنان اور پارٹیاں اس فرد واحد کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔سب سے نمایاں فرق یہ ہے کہ ان پارٹیوں میں ہونے والے فرد واحد کے غلط فیصلوں کا خمیازہ زیادہ تر کارکنان اور نچلی سطح کی قیادت کو بھگتنا پڑتا ہے جبکہ جماعت اسلامی میں فیصلہ سازی کے عمل میں چونکہ کارکنان بھی کسی نہ کسی شکل میں شامل ہوتے ہیں اس لئے غلط نتائج کا خمیازہ بھی سب مل کر بھگتتے ہیں اور یوں قیادت کو اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک بدر بھی نہیں ہونا پڑتا۔

جماعت اسلامی کی موجودہ تحریک اور اس سے قبل کی ساری جدوجہد محض حکومت کی تبدیلی یا چہروں کی تبدیلی کے لئے نہیں ہے،جماعت اسلامی کی تحریک کامیاب ہوجائے اور موجودہ حکومت چلی بھی جائے تو کیا فرق پڑے گا؟ کچھ بھی نہیں۔جماعت اسلامی موجودہ استحصالی نظام اور اس کے سرپرستوں کے خلاف جدوجہد کررہی ہے اور جماعت اسلامی کی موجودہ تحریک کا پس منظر بھی یہی ہے۔ہمارا مؤقف ہے کہ جب تک یہ نظام تبدیل نہیں ہوگا چہرے بدلنے سے ملک و قوم کی حالت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی۔گذشتہ73 سال یہی لوگ مختلف پارٹیوں کے ذریعے باری باری برسراقتدار رہے ہیں۔ملک و قوم کی تباہ حالی کے ذمہ دار ہیں اور ان سے کسی تبدیلی یا بہتری کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔پاکستان میں انتخابی نظام پر بھی بہت سے سوالیہ نشان ہیں،یہ نظام امیر ترین یعنی اشرافیہ کو تو مکمل طور پر سپورٹ کرتا ہے لیکن عام اور متوسط طبقہ کو یہ دیوار کے ساتھ لگاتا ہے۔ملکی تاریخ میں جن پارٹیوں نے حکومت کی ہے اس میں شامل لوگوں کا جائزہ لیا جائے تو انکشاف ہوگا کہ قیام پاکستان سے جو خاندان اقتدار میں تھے آج بھی وہی خاندان اقتدار میں ہیں،البتہ ان میں اضافہ ہوا ہے کہ کچھ نئے سرمایہ دار اس گیم میں مزید شامل ہوئے ہیں۔پاکستان میں الیکشن سرمایہ کاری کا کھیل بن چکا ہے،سرمایہ دار،سیاسی پارٹیوں میں سرمایہ لگاتے ہیں جس طرح ریس کے گھوڑے پر رقم لگائی جاتی ہے،فرق یہ ہے کہ ریس کا گھوڑا ہار جائے تو رقم ڈوب جاتی ہے،جیت جائے تو طے شدہ انعام ہی ملتا ہے لیکن اس ریس میں جیتنے پر کئی گنا زیادہ وصولی ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کی علیحدہ تحریک چلانے کی ایک وجہ اور بھی ہے،ماضی میں جنرل پرویز مشرف دور میں جب اے پی ڈی ایم قائم کی گئی تھی اور میثاق جمہوریت وجود میں آیا تھا۔اے پی ڈی ایم نے الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا لیکن عین وقت پر دو بڑی پارٹیوں نے اس فیصلہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اچانک الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔ماضی میں جماعت اسلامی آئی جے آئی کا حصہ رہی ہے،جن مشترکہ نکات پر جماعت اسلامی آئی جے آئی میں شامل ہوئی تھی،الیکشن جیتنے کے بعد پی ڈی ایم میں شامل ایک جماعت کے سربراہ جو اس وقت IJI کے سربراہ تھے نہ یک لخت ان وعدوں کو فراموش کردیا۔ان مشترکہ نکات میں سرفہرست اسلامی نظام (شریعت) کا نفاذ تھا۔بعد ازاں انہوں نے جو شریعت بل پیش کیا تھا اس میں اپنے دائمی اقتدار کا بندوبست شامل تھا۔1999 ء میں واجپائی دورہ کے موقع پر جو ظلم و ستم جماعت اسلامی کے کارکنان پر ڈھایا گیا وہ بھی ہنوز ہماری یادداشتوں سے محو نہیں ہوا جبکہ جماعت اسلامی نے ملک سے سودی نظام کے خاتمے لئے عدالت سے رجوع کیا تو اس کے مقابلے میں سودی نظام کے تحفظ کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم حکم امتناع کے لئے سپریم کورٹ میں چلے گئے اور ان کی درخواست ابھی تک عدالت میں موجود ہے۔جبکہ پی ڈی ایم میں شامل ایک جماعت کے سربراہ ماضی میں وعدوں کو ”یہ کوئی قرآن و حدیث“ نہیں ہیں کہ چکے ہیں۔جبکہ ان کے صاحبزادے حال ہی میں گلگت بلتستان کی الیکشن مہم میں اپنی پارٹی کا غیر اسلامی اور سیکولر تشخص کا اعلان کرچکے ہیں۔
ماضی میں جماعت اسلامی متحدہ مجلس عمل کا دو بار حصہ رہی ہے۔ایم ایم اے کے موجودہ سربراہ کے سیاسی طرز عمل اور ماضی میں دونوں بار جماعت اسلامی کے ساتھ رویہ پر صرف کارکنان جماعت اسلامی ہی نہیں ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ ان سے شاکی ہے۔پی ڈی ایم میں شامل کوئی بھی جماعت آزادنہ،منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انٹرا پارٹی الیکشن کا نہ تو نظام رکھتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ارادہ ہے،ان تمام جماعتوں میں اول روز سے موروثیت کو رواج دیا گیا ہے۔جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ جن پارٹیوں کے اندر جمہوریت کا فقدان ہے اور اقربا پروری عروج پر وہ ملک میں جمہوریت کے استحکام اور ملک و قوم کی ترقی و استحکام کے لئے کس قدر سنجیدہ ہوسکتی ہیں۔جن لوگوں نے پارٹیاں بدل بدل کر 73 سالوں میں ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اگر اب بھی وہی بر سر اقتدار آجاتی ہیں تو ان سے بہتری کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے،بے روزگاری،مہنگائی اورکرپشن عروج پر ہے،عوام بے حال و پریشان ہیں،ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،موجودہ حکومت ہر شعبہ میں ناکام ہوچکی ہے اور یہ بھی گزشتہ حکومتوں کا تسلسل ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے ان تمام سے الگ ہوکر یکسوئی کے ساتھ اپنی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور کے پی کے میں چار بھرپور جلسے کرنے کے بعد اب پنجاب کا رخ کرے گی۔جماعت اسلامی کا مؤقف یہ ہے کہ ”اسی عطار کے لونڈے سے دوا“ کیوں لیں ”جس کے سبب بیمار ہوئے ہیں“.

پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جمہوریت کے استحکام اور ملک و قوم کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہی ہیں. ان میں شامل دو بڑی جماعتوں کے سربراہان پر کرپشن، منی لانڈرنگ سمیت کئی الزامات ہیں. انہیں بچانے کیلئے یہ ساری تگ و دو ہے. یہی وجہ ہے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پی ڈی ایم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس بات کی خواہش مند ہیں کہ جماعت اسلامی ان کے ساتھ شامل ہو جائے تو پی ڈی ایم والے اپنی تحریک ختم کرکے جماعت اسلامی کی تحریک میں شامل کیوں نہیں ہو جاتے.

پاکستان کی 53 فیصد عوام نے ہمارے اس فیصلہ کی حمایت کی ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں

اور درخواست گزار ہیں کہ آئیں جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر اس فرسودہ نظام کو زمیں بوس کردیں اور حقیقی معنوں میں ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی حکومت کا قیام عمل میں لائیں جو ہماری امنگوں کے عین مطابق ہو۔حقیقی تبدیلی کے لئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔کیونکہ ؎
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

جماعت اسلامی کی تحریک، عوامی رسپانس اور کارکنان کے فرائض…

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق دیرپائن میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے.

جماعت اسلامی نے چوتھا پڑاؤ دیرپائن کے ریسٹ ہاؤس گراؤنڈ میں ڈالا اور پہلے تینوں پڑاؤ کے ریکارڈ توڑ ڈالے، پہلا جلسہ باجوڑ میں تھا جس میں باجوڑ کے عوام نے دل کھول کر جماعت اسلامی کو خوش آمدید کہا اور جلسے میں شرکت کی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، یہ ایک عوامی سمندر تھا جو امڈ آیا تھا، واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے یہ جلسہ عام تن تنہا منعقد کیا اور اس میں صرف ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا دیگر اضلاع سے لوگوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی. جماعت اسلامی نے دوسرا جلسہ بونیر میں کیا، اس دوسرے جلسہ عام کی

دیر پائین جلسہ عام کا ایک منظر

انفرادیت یہی تھی کہ صرف متعلقہ ضلع کے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا اور جماعت اسلامی نے تن تنہا جلسہ گاہ کو اس طرح بھردیا کہ پہلے جلسے کا ریکارڈ توڑ دیا. اس کے مقابلے میں پی ڈی ایم جتنے جلسے کررہی ہے اسے جلسہ گاہوں کو بھرنے کے لئے کافی تگ و دو کرنی پڑتی ہے،گیارہ جماعتی اس اتحاد کو الیکٹرانک میڈیا پر کوریج بھی جماعت اسلامی سے زیادہ مل رہی ہے لیکن اس کے باوجود جماعت اسلامی کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو رہا ہے. جماعت اسلامی نے تیسرے جلسے کا اعلان سوات کے گراسی گراؤنڈ پر کیا تھا لیکن پی ٹی آئی حکومت پہلے دو جلسوں سے ہی گھبرا گئی اور جلسے کے انعقاد کی اجازت نہ دے کر سوچا کہ جماعت اسلامی کو دبالیں گے لیکن جماعت کی قیادت نے سوات ہائی کورٹ بنچ سے رجوع کیا اور جلسہ کی اجازت حاصل کرلی، یہ جلسہ پہلے دونوں

سوات جلسہ عام کا منظر

جلسوں سے بڑا ثابت ہوا، جماعت نے دیر پائین میں اپنے چوتھے جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ یہ جلسہ عام پہلے تینوں جلسوں سے بڑا ہوگا اور جماعت اسلامی دیر پائین نے اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کردیا. ان چاروں جلسوں کے دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب کی والدہ محترمہ بھی وفات پا گئیں، جناب سینیٹر سراج الحق صاحب اس حوالے سے بھی مصروف رہے دریں اثناء امیر جماعت اسلامی نے منصورہ جماعت اسلامی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں 11 نکاتی عوامی چارٹر کا اعلان بھی کیا، یہ عوامی چارٹر عوام کے تمام بڑے مسائل کا نہ صرف احاطہ کرتا ہے بلکہ ملک کو داخلی اور

جماعت اسلامی کا 11 نکاتی عوامی چارٹر

خارجی، سیاسی، سماجی ،معاشرتی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کا حل بھی پیش کرتا ہے. آج کے جلسے میں جناب سینیٹر سراج الحق صاحب نے دو ہفتوں کے لئے کرونا کی وجہ سے تمام عوامی جلسوں کو روکنے کا اعلان کرتے ہوئے، دوہفتے بعد پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ سے دوبارہ تحریک کے آغاز اور جلسہ عام کے انعقاد کا اعلان بھی کیا ہے.
جماعت اسلامی کے ان چاروں کامیاب پاور شوز کے بعد ملک بھر کے تحریکی کارکنان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اب غیرفعالیت کے لحاف سے نکلیں اور عوام کے دروازوں اور دلوں پر دستک دیں. اس وقت ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہوچکا ہے، اگر جماعت اسلامی چاہے تو یہ خلاء پر کرسکتی ہے شرط یہ ہے کہ اس کے کارکن کو ایگریسو ہونا پڑے گا، ایگریسو سے مراد خدانخواستہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ کارکنان ڈنڈے سوٹے اٹھالیں بلکہ ایگریسو اس لحاظ سے کہ وہ اب گھروں سے نکلیں، اپنے واضح اور دوٹوک بیانیہ کو عوام تک پہنچائیں. جماعت اسلامی کے ماہانہ چاراجتماعات ہوتے ہیں جن میں ایک پروگرام دعوتی وفود کا ہے، جماعت کے کارکنان اسے باقاعدہ اور مربوط بنائیں، اگلے چند ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے، وفود کی شکل میں گھر گھر لوگوں تک پہنچا جائے، خاص طور پر یہ

دیر پائین میں جلسہ عام کا ویڈیو منظر

جو دو ہفتے کا وقفہ رکھا گیا ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تنظیمی ایمرجنسی کے ذریعے اگلے 15 سے 20 دن لوگوں تک 11 نکاتی عوامی چارٹر پہنچایا جائے. میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے کارکنان جنگی بنیادوں پر اس طرح متحرک ہو جائیں تو صرف یہی نہیں کہ جماعت اسلامی سیاسی منظر نامے پر ایک نئے انداز میں ابھرے گی بلکہ مقتدر قوتوں کے لئے اس کا راستہ روکنا بھی اتنا آسان نہیں ہوگا.
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے.

سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کے خلاف حکومتی اقدامات

ایک دور تھا جب پاکستان میں صرف پی ٹی وی کا طوطی بولتا تھا، یا پھر ریڈیو پاکستان سے ہوا کی لہروں پر پاکستان کی عوام کو "باخبر” رکھا جاتا تھا یا اخبارات کے ذریعے ملک کے حالات لوگوں تک پہنچتے تھے. سرکاری ٹی وی اور ریڈیو وہی کچھ دکھاتا اور بتاتا تھا جو حکومت چاہتی تھی جبکہ اخبارات قدرے آزاد تھے تاہم پرنٹ میڈیا کے ذریعے عوام تک خبر پہنچتے پہنچتے باسی ہو جاتی تھی.پھر حالات نے انگڑائی لی اور نجی ٹی وی چینلز کا دور آیا.یہ چینلز آئے اور چھا گئے. نجی ٹی وی چینلز نے پی ٹی وی کی اجارہ داری کا خاتمہ کر دیا اور لوگوں تک پل پل کی خبریں پہنچنے لگیں، یہ چینلز وہ کچھ بھی دکھانے لگے جو سرکار اس سے قبل سرکاری ٹی وی پر نہیں دکھاتی تھی تاہم پھر بھی نجی ٹی وی چینلز بہت کچھ نہیں دکھاتے تھے،چینل، ریڈیو اور اخبار سرکاری ہو یا نجی بہرحال عوام وہ کچھ دیکھنے سے محروم تھے جو وہ دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن سوشل میڈیا نے ان سب کی اجارا داری کا خاتمہ ہی نہیں کر دیا بلکہ ان کے لیے چیلنج بھی بن گیا کیونکہ اس کا ریموٹ استعمال کرنے والے کے ہاتھ میں ہے.ایک اندازے کے مطابق ملک میں 20 کروڑ افراد اینڈرائیڈ موبائل استعمال کرتے ہیں.اینڈرائیڈ ٹی وی چینلز کو ماضی کا قصہ بنانے جا رہا ہے.
اب سوشل میڈیا پر ہی لوگ وہی کچھ دیکھ اور پیش کر رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں. جلد ہی وہ دور آنے والا ہے جب سوشل میڈیا ہی الیکٹرانک میڈیا کی جگہ مکمل طور پر لے لے گا اور الیکٹرانک میڈیا کی افادیت محض آج کل کے پرنٹ میڈیا جتنی ہی رہ جائے گی.
سرکار پہلے ہی نجی چینلز سے پریشان تھی اوپر سے سوشل میڈیا نے تو سرکار کی نیندیں ہی حرام کر دیں، حالانکہ اقتدار کی مسند تک پہنچنے کے لئے موجودہ سرکار نے سوشل میڈیا کو بطور ایک مؤثر ہتھیار کے استعمال کیا اور اب بھی یہ استعمال جاری ہے.
سوشل میڈیا پر وہ کیا چیز ہے جو دستیاب نہیں ہے. سوشل میڈیا صارف جس قسم کا مزاج اور رجحان رکھتا ہے یہاں اپنے رجحانات کے مطابق اسے مطلوبہ مواد مل جاتا ہے. یہاں آپ کو ذاتی سرگرمیوں کے علاوہ سیاسی، سماجی، مذہبی، صحافتی ،تجارتی غرض ہر طرح کا مواد تھوک کے حساب سے ملے گا. سوشل میڈیا کا مؤثر و مثبت استعمال بھی ہے اور منفی بھی، موجودہ سرکار سے وابستگان کشتگان انقلاب سب سے زیادہ اسے مخالف پارٹیز کی پگڑیاں اچھالنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں، اردو کا محاورہ ہے "جیسا کرو گے، ویسا بھروگے، اسی طرح کشش ثقل کا نیوٹن کا ” ہر عمل کا ردعمل” والا اصول سوشل میڈیا پر خاص طور پر موجودہ حکومت کے حوالے سے صادق آتا ہے، جو کچھ کیا گیا اور جن کے خلاف کیا گیا وہاں سے اضافے کے ساتھ واپس آرہا ہے، چنانچہ سننے میں آرہا ہے کہ اب سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی خیر نہیں ہے، حکومت اب ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے جا رہی ہے، مشرف دور میں نجی ٹی وی چینلز اور معروف اینکر پرسنز پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، لیکن بالآخر یہ پابندیاں ختم کرنا پڑیں، ان پابندیوں کے خاتمے کے لئے صحافتی تاریخ میں ایک عظیم الشان جدوجہد کی گئی، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر قدغنیں لگانا قدرے آسان ہے لیکن سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ) کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ سوشل میڈیا کا ہیڈکوارٹر کہیں اور ہے وہاں ہماری حکومت کی دال نہیں گلتی، سو اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کے خلاف ہی کارروائی کی جائے، کریک ڈاؤن کا اعلان حکومتی سطح پر کیا جا چکا ہے، ہم خود ایسے مواد کے خلاف ہیں جو اسلام کے اخلاقی و شرعی اصولوں اور احکامات کے خلاف ہو، جس میں اسلام، پاکستان، نظریہ پاکستان اور جملہ مذاہب کی برگزیدہ ہستیوں پر طعن و تشنیع کی گئی ہو.
ہم ہر ایسی تحریر اور پوسٹ کے خلاف ہیں جس میں ایڈوب فوٹو شاپ کے ذریعے سیاستدانوں(چاہے وہ اہل اقتدار ہیں یا حزب اختلاف)، مذہبی و سماجی شخصیات کے چہرے بگاڑ کر پیش کئے جاتے ہیں، ایسی پوسٹس جن میں فوج اور سلامتی کے دیگر اداروں کے خلاف جھوٹی، بے سروپا اور من گھڑت باتیں کی گئی ہوں وہ بھی قابل مذمت ہیں، اسی طرح ذاتی یا سیاسی مفاد کی خاطر من گھڑت اور جھوٹے الزامات کے ذریعے سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے والی پوسٹس اپلوڈ کرنے والوں کے خلاف حکومتی اقدامات کی ہم تائید کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ باور کرانا بھی مقصود ہے کہ اگر حکومت سوشل میڈیا پر اپنے اوپر تنقید کو برداشت نہیں کر پا رہی اور اس کا حوصلہ اور اعصاب جواب دے گئے ہیں چنانچہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف پیدا ہونے والے ردعمل کو دبانے کے لئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں تو معاف کیجئے گا حکومت سخت غلطی پر ہے.
حکومت کو سوشل میڈیا پر قدغنیں لگانے سے قبل سوشل میڈیا صارفین کو اس بات کی یقین دہانی کرانی چاہیے کہ وہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو زیرعتاب نہیں لائے گی.
ویسے اگر آزادی اظہار رائے کے بین الاقوامی اصول کے تحت دیکھا جائے تو حکومت کے یہ اقدامات درست نہیں ہیں، تاہم اگر حکومت واقعی یہ کریک ڈاؤن صرف ان عناصر کے خلاف کرنا چاہتی ہے جو جھوٹ، منافرت اور انتشار پر مبنی پوسٹس لگاتے ہیں تب بھی حکومت کو سائبر کرائم ایکٹ کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہئے اور صرف وہی لوگ ہی اس کریک ڈاؤن کا شکار بنیں جو سائبر کرائم ایکٹ کے تحت واقعی آتے ہیں.
اگر حکومت نے خود پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس کا ردعمل حکومتی توقعات سے کہیں بڑھ کر سامنے آئے گا اور حکومت اس ردعمل کو برداشت نہیں کر سکے گی. ماضی میں پرویز مشرف حکومت نے بھی الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے پابندیاں عائد کی تھیں، حکومت کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے پرویز مشرف دور کی پابندیوں کو بھی دیکھ لے.
حکومت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ملک کے اندر تو کریک ڈاؤن کر کے اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبا لے گی لیکن بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور آزادی اظہار رائے کے حق میں کام کرنے والی تنظیموں کی آوازیں کیسے دبائی گی؟
حکومت کی کوئی بھی ایسی کوشش یا عمل جس میں اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کا تاثر سامنے آیا تو بین الاقوامی سطح پر ملک کا امیج خراب ہو گا اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جہاں عوام کو اپنی رائے کے اظہار کی اجازت نہیں ہے.