سندھ حکومت مان گئی، جماعت اسلامی کا دھرنا کامیاب.

جماعت اسلامی کا 29 روزہ دھرنا بالآخر اختتام کو پہنچا. اس دھرنے کا اختتام انتہائی خوشگوار ہوا ہے کیونکہ آخرکار سندھ کی صوبائی حکومت نے جمہوری اقدار کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ جاری مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچایا. جماعت اسلامی کے 90 فیصد مطالبات تسلیم کرلئے گئے اور باقاعدہ سندھ حکومت نے جماعت اسلامی کراچی کی قیادت کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا ہے جس کے نتیجے میں امیر جماعت اسلامی کراچی جناب حافظ نعیم الرحمن نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا.معاہدے میں مئیر کراچی کے اختیارات بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور کے ایم سی کو تقریباً تمام ادارے اور محکمے واپس کردیئے گئے ہیں. فنانس کمیشن میں میئر کراچی و ٹاؤن کمیٹیز کو شامل کیا گیا اور فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے بھی فارمولا طے با گیا ہے.جو مطالبات باقی ہیں ان کے حل کیلئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے.کراچی کو حق مل گیا اور پاکستانیوں کو یہ سبق کہ اسلامی اور جمہوری اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار ہونا ممکن ہے ۔اس دھرنے میں نہ تو ڈھول باجے تھے نہ کسی پائل کی جھنکار اور نہ مخالفین کے لئے گالی گلوچ تھی،اب یہ آنے والے مئیر پر منحصر ہے کہ وہ عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان کی تقلید کرکے کراچي کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بناتا ہے یا ایم کیو ایم کی تقلید کرکے شہر کو اجاڑ دیتا ہے ۔اصل امتحان عوام کا ہے کہ وہ شہر کراچی کو محافظین کے حوالے کر دیتے ہیں یا محاربین کے ۔جماعت اسلامی کراچی نے یوم تشکر منایا ہے.پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے اس معاہدے کی شدید مخالفت کی ہے اور دونوں پارٹیوں نے مشترکہ اور الگ الگ پریس کانفرنسوں میں اس معاہدے پر شدید تنقید کی ہے. جماعت اسلامی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے.ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما اظہار الحق، فاروق ستار اور اسی طرح پی ٹی آئی کی کراچی کی قیادت بھی شدید صدمے، رنج اور دکھ کی کیفیت میں ہیں. کچھ روز پہلے پی ٹی آئی نے بھی متنازعہ بلدیاتی قانون کے خلاف دھرنا دیا تھا لیکن وہ کراچی کے عوام کو متوجہ کرنے میں ناکام رہے اسی طرح ایم کیو ایم نے بھی سو دو سو کارکنان کے ساتھ احتجاج کیا لیکن عوام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ان کا احتجاج فلاپ ہوگیا ایم کیو ایم نے روائتی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن یہاں بھی وہ کامیاب نہیں ہوسکے. یہ ایم کیو ایم ہی تھی جس نے 2013ء میں صوبائی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کئے تھے جس کے تحت کے ایم سی کے بہت سے محکمے یا ادارے صوبائی حکومت کے حوالے کر دئیے یعنی کے ایم سی کو وسائل کے اور اختیارات کے حوالے سے بے دست و پا کرنے کی ابتداء 2013ء میں ایم کیو ایم نے کی اور 2021ء میں پیپلز پارٹی نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا. اب جبکہ کے ایم سی کو پیشتر وسائل و اختیارات واپس مل رہے ہیں تو بحیثیت سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور پی ٹی آئی کی مخالفت اور چیخ و پکار سمجھ سے بالاتر ہے. گویا ہم ان کے اس رویے کی بنیاد پر کہ سکتے ہیں کہ وہ کے ایم سی کے پاس اختیارات اور وسائل نہیں دیکھنا چاہتے. گویا یہ دونوں پارٹیاں چاہتی ہیں کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن محض ایک علامتی ادارہ بن کر رہ جائے. ہم ان دونوں پارٹیوں کے اس رویہ کی بنیاد پر سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں پارٹیاں کراچی کا اقتدار تو چاہتی ہیں لیکن عوام کے مسائل کا حل نہیں چاہتی، عوام کی تکالیف اور مشکلات کا خاتمہ نہیں چاہتی. بہرحال اس سب کے باوجود یہ کریڈٹ جماعت اسلامی کو سو فیصد جاتا ہے کہ امیر جماعت اسلامی کراچی جناب حافظ نعیم الرحمن صاحب کی قیادت میں ایک خالصتاً عوامی ایشو پر نہایت جرات، پامردی،اور استقامت و دانش مندی کے ساتھ نہایت نظم و ضبط کے ساتھ، بالکل عین جمہوری اقدار کے مطابق، اپنےآئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا، دھرنا دیا گیا، اس دوران کوئی ایک گملا تک نہیں ٹوٹا،سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو نقصان نہیں پہنچا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار نہیں کی گئی، مذاکرات کے لئے دروازے کھلے رکھے گئے، پیپلزپارٹی کے وفود کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا گیا، ان پر ہوٹنگ نہیں کی گئی، جملے نہیں کسے گئے بلکہ ان کی بہترین انداز میں مہمان نوازی کی گئی. یہی جمہوریت ہے اور یہی جمہوریت کا تقاضا بھی ہے اور اسے جمہوریت کا حسن کہتے ہیں.جماعت اسلامی کی قیادت و کارکنان بجا طور پر خراج تحسین اور مبارک باد کے مستحق ہیں. اب گیند صوبائی حکومت کے کورٹ میں ہے. معاہدے پر عملدرآمد کیلئے پیپلز پارٹی نے اطلاعات کے مطابق 2 فروری کو اجلاس طلب کیا ہے. آنے والا وقت پیپلز پارٹی کے اخلاس نیت کو ظاہر کردے گا. اگر پیپلز پارٹی درست نیت کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں یقیناً کراچی میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی اور اس کا سہرا جماعت اسلامی کے سر ہوگا.https://youtu.be/hfYaznBs_es

مصنف: mantaqblog

News and Politics,Reports etc.

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: