حکومت مخالف تحریک،پی ڈی ایم اور جماعت اسلامی کا طرزعمل

جماعت اسلامی پاکستان حکومت مخالف تحریک میں پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں بلکہ الگ تحریک چلارہی ہے۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان و قیادت شاکی ہے کہ کیوں نہ جماعت اسلامی نے ان کے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک میں حصہ لیا؟جماعت اسلامی اس حوالے سے اپنا ایک نقطہ نظر رکھتی ہے،اور وہ نقطہ نظر بہت وزنی ہے جس کی تائید گذشتہ روز ایک سروے رپورٹ نے بھی کردی جس کا اہتمام پلس کنسلٹنٹ نے کیا تھا،جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق53 % لوگوں نے جماعت اسلامی کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کی موجودہ سیاسی و مذہبی پارٹیوں سے مختلف ہے،یہاں فیصلے کوئی فرد واحد نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے مجلس شوریٰ کا فورم موجود ہے،جبکہ ملک کی تینوں بڑی پارٹیوں کو ہی لے لیں تو یہ بات واضح ہے کہ ان کے فیصلے فرد واحد ہی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں،کارکنان اور پارٹیاں اس فرد واحد کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔سب سے نمایاں فرق یہ ہے کہ ان پارٹیوں میں ہونے والے فرد واحد کے غلط فیصلوں کا خمیازہ زیادہ تر کارکنان اور نچلی سطح کی قیادت کو بھگتنا پڑتا ہے جبکہ جماعت اسلامی میں فیصلہ سازی کے عمل میں چونکہ کارکنان بھی کسی نہ کسی شکل میں شامل ہوتے ہیں اس لئے غلط نتائج کا خمیازہ بھی سب مل کر بھگتتے ہیں اور یوں قیادت کو اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک بدر بھی نہیں ہونا پڑتا۔

جماعت اسلامی کی موجودہ تحریک اور اس سے قبل کی ساری جدوجہد محض حکومت کی تبدیلی یا چہروں کی تبدیلی کے لئے نہیں ہے،جماعت اسلامی کی تحریک کامیاب ہوجائے اور موجودہ حکومت چلی بھی جائے تو کیا فرق پڑے گا؟ کچھ بھی نہیں۔جماعت اسلامی موجودہ استحصالی نظام اور اس کے سرپرستوں کے خلاف جدوجہد کررہی ہے اور جماعت اسلامی کی موجودہ تحریک کا پس منظر بھی یہی ہے۔ہمارا مؤقف ہے کہ جب تک یہ نظام تبدیل نہیں ہوگا چہرے بدلنے سے ملک و قوم کی حالت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی۔گذشتہ73 سال یہی لوگ مختلف پارٹیوں کے ذریعے باری باری برسراقتدار رہے ہیں۔ملک و قوم کی تباہ حالی کے ذمہ دار ہیں اور ان سے کسی تبدیلی یا بہتری کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔پاکستان میں انتخابی نظام پر بھی بہت سے سوالیہ نشان ہیں،یہ نظام امیر ترین یعنی اشرافیہ کو تو مکمل طور پر سپورٹ کرتا ہے لیکن عام اور متوسط طبقہ کو یہ دیوار کے ساتھ لگاتا ہے۔ملکی تاریخ میں جن پارٹیوں نے حکومت کی ہے اس میں شامل لوگوں کا جائزہ لیا جائے تو انکشاف ہوگا کہ قیام پاکستان سے جو خاندان اقتدار میں تھے آج بھی وہی خاندان اقتدار میں ہیں،البتہ ان میں اضافہ ہوا ہے کہ کچھ نئے سرمایہ دار اس گیم میں مزید شامل ہوئے ہیں۔پاکستان میں الیکشن سرمایہ کاری کا کھیل بن چکا ہے،سرمایہ دار،سیاسی پارٹیوں میں سرمایہ لگاتے ہیں جس طرح ریس کے گھوڑے پر رقم لگائی جاتی ہے،فرق یہ ہے کہ ریس کا گھوڑا ہار جائے تو رقم ڈوب جاتی ہے،جیت جائے تو طے شدہ انعام ہی ملتا ہے لیکن اس ریس میں جیتنے پر کئی گنا زیادہ وصولی ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کی علیحدہ تحریک چلانے کی ایک وجہ اور بھی ہے،ماضی میں جنرل پرویز مشرف دور میں جب اے پی ڈی ایم قائم کی گئی تھی اور میثاق جمہوریت وجود میں آیا تھا۔اے پی ڈی ایم نے الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا لیکن عین وقت پر دو بڑی پارٹیوں نے اس فیصلہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اچانک الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔ماضی میں جماعت اسلامی آئی جے آئی کا حصہ رہی ہے،جن مشترکہ نکات پر جماعت اسلامی آئی جے آئی میں شامل ہوئی تھی،الیکشن جیتنے کے بعد پی ڈی ایم میں شامل ایک جماعت کے سربراہ جو اس وقت IJI کے سربراہ تھے نہ یک لخت ان وعدوں کو فراموش کردیا۔ان مشترکہ نکات میں سرفہرست اسلامی نظام (شریعت) کا نفاذ تھا۔بعد ازاں انہوں نے جو شریعت بل پیش کیا تھا اس میں اپنے دائمی اقتدار کا بندوبست شامل تھا۔1999 ء میں واجپائی دورہ کے موقع پر جو ظلم و ستم جماعت اسلامی کے کارکنان پر ڈھایا گیا وہ بھی ہنوز ہماری یادداشتوں سے محو نہیں ہوا جبکہ جماعت اسلامی نے ملک سے سودی نظام کے خاتمے لئے عدالت سے رجوع کیا تو اس کے مقابلے میں سودی نظام کے تحفظ کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم حکم امتناع کے لئے سپریم کورٹ میں چلے گئے اور ان کی درخواست ابھی تک عدالت میں موجود ہے۔جبکہ پی ڈی ایم میں شامل ایک جماعت کے سربراہ ماضی میں وعدوں کو ”یہ کوئی قرآن و حدیث“ نہیں ہیں کہ چکے ہیں۔جبکہ ان کے صاحبزادے حال ہی میں گلگت بلتستان کی الیکشن مہم میں اپنی پارٹی کا غیر اسلامی اور سیکولر تشخص کا اعلان کرچکے ہیں۔
ماضی میں جماعت اسلامی متحدہ مجلس عمل کا دو بار حصہ رہی ہے۔ایم ایم اے کے موجودہ سربراہ کے سیاسی طرز عمل اور ماضی میں دونوں بار جماعت اسلامی کے ساتھ رویہ پر صرف کارکنان جماعت اسلامی ہی نہیں ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ ان سے شاکی ہے۔پی ڈی ایم میں شامل کوئی بھی جماعت آزادنہ،منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انٹرا پارٹی الیکشن کا نہ تو نظام رکھتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ارادہ ہے،ان تمام جماعتوں میں اول روز سے موروثیت کو رواج دیا گیا ہے۔جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ جن پارٹیوں کے اندر جمہوریت کا فقدان ہے اور اقربا پروری عروج پر وہ ملک میں جمہوریت کے استحکام اور ملک و قوم کی ترقی و استحکام کے لئے کس قدر سنجیدہ ہوسکتی ہیں۔جن لوگوں نے پارٹیاں بدل بدل کر 73 سالوں میں ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اگر اب بھی وہی بر سر اقتدار آجاتی ہیں تو ان سے بہتری کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے،بے روزگاری،مہنگائی اورکرپشن عروج پر ہے،عوام بے حال و پریشان ہیں،ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،موجودہ حکومت ہر شعبہ میں ناکام ہوچکی ہے اور یہ بھی گزشتہ حکومتوں کا تسلسل ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے ان تمام سے الگ ہوکر یکسوئی کے ساتھ اپنی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور کے پی کے میں چار بھرپور جلسے کرنے کے بعد اب پنجاب کا رخ کرے گی۔جماعت اسلامی کا مؤقف یہ ہے کہ ”اسی عطار کے لونڈے سے دوا“ کیوں لیں ”جس کے سبب بیمار ہوئے ہیں“.

پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جمہوریت کے استحکام اور ملک و قوم کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہی ہیں. ان میں شامل دو بڑی جماعتوں کے سربراہان پر کرپشن، منی لانڈرنگ سمیت کئی الزامات ہیں. انہیں بچانے کیلئے یہ ساری تگ و دو ہے. یہی وجہ ہے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پی ڈی ایم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس بات کی خواہش مند ہیں کہ جماعت اسلامی ان کے ساتھ شامل ہو جائے تو پی ڈی ایم والے اپنی تحریک ختم کرکے جماعت اسلامی کی تحریک میں شامل کیوں نہیں ہو جاتے.

پاکستان کی 53 فیصد عوام نے ہمارے اس فیصلہ کی حمایت کی ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں

اور درخواست گزار ہیں کہ آئیں جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر اس فرسودہ نظام کو زمیں بوس کردیں اور حقیقی معنوں میں ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی حکومت کا قیام عمل میں لائیں جو ہماری امنگوں کے عین مطابق ہو۔حقیقی تبدیلی کے لئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔کیونکہ ؎
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

مصنف: mantaqblog

News and Politics,Reports etc.

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s