سوشل میڈیا شتر بے مہار….

سوشل میڈیا کے حوالے سے عنایت اللہ کامران کی فکر انگیز تحریر.

سوشل میڈیا شتر بے مہارآج کل سوشل میڈیا کا دور ہے.کم و بیش ہر شخص جس کے پاس سمارٹ فون ہے وہ فیس بک ضرور استعمال کرتا ہے. جبکہ جو ذرا زیادہ تعلیم یافتہ اور سوشل میڈیا کے حوالے سے اپ ٹو ڈیٹ ہیں یا میچور ہیں وہ ٹوئٹر بھی استعمال کرتے ہیں، وٹس ایپ، انسٹا گرام وغیرہ بھی بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں.

پاکستان میں سب سے زیادہ صارف فیس بک کے ہیں جو کروڑوں میں ہیں، سوشل میڈیا ایک ایسا ٹول ہے جس نے کئی بار الیکٹرانک میڈیا کی بھی ایسی تیسی کردی، چھوٹے سے موبائل نے بڑے بڑوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا.

ہر چیز کے مثبت اور منفی استعمال ہوتے ہیں، سوشل میڈیا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، بدقسمتی سے سوشل میڈیا باالخصوص فیس بک کا منفی استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، سوشل میڈیا شتر بے مہار بن چکا ہے اور حکومت پاکستان کا سائبر کرائم ایکٹ نوحہ کناں اور بے بس نظر آرہا ہے.

سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن کررہے ہیں، ان کا استعمال دیکھ کر زبان سے لاحول ولا قوۃ اور الامان الحفیظ کے الفاظ زبان سے نکلتے ہیں، گویا بندر کے ہاتھوں میں استرا آگیا ہے، اخلاقیات، دین، ایمان، شرم و حیا وغیرہ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ گھڑنے کے علاوہ شرفاء و معززین کی پگڑیاں بھی اچھالنا معمول بن گیا ہے.

سیاسی مخالفین کے استہزاء آمیز کارٹونز، فوٹوشاپ کے ذریعے ایڈٹ شدہ تصاویر کے ذریعے مخالفین کو بدنام کرنا، من گھڑت الزامات پر مبنی تحریروں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا، ایڈٹ شدہ وڈیوز کے ذریعے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ وغیرہ، مختلف طریقوں سے اپنی پارٹی کے حق میں زور صرف کیا جاتا ہے.

رونا یہ ہے کہ ان سب باتوں سے نہ تو کوئی پارٹی اپنے کارکنوں کو روکتی ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی ایسا مکینزم ہے کہ یہ سلسلہ روکا جائے. بلکہ الٹا اکثر پارٹیاں تو مخالف پارٹیوں کے خلاف اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو جھوٹا سچا مواد فراہم کر کے ایک لحاظ سے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ کوئی سیاسی، سماجی، تجارتی، صحافتی و علمی اور مذہبی شخصیت کی عزت محفوظ نہیں ہے. سوچنا یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا؟ کیا اخلاقیات اور شرم و حیا سے عاری ان نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی کوئی اخلاقی تربیت بھی کرے گا یا یہ سوشل میڈیا پر شتر بے مہار غلاظت پھیلاتے رہیں گے؟

مصنف: mantaqblog

News and Politics,Reports etc.

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s