جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے زیر اہتمام 14 اگست کو ریلیوں کا اہتمام کیا جائے گا. حافظ سعد الرحمن صدر جے آئی یوتھ ضلع میانوالی.

جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے انتخابی اصلاحات کے حوالہ سے حکومت کی طرف سے پیش کردہ مسودہ قانون پر اپنا تفصیلی اختلافی مؤقف پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنامؤقف چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور مجاہد علی کے نام خط کی صورت میں جمع کرایا ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی کے نام لکھے گئے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے حوالہ سے اس کمیٹی کے متعدد اجلاس ہوچکے ہیں۔ انتخابی اصلاحات کے حوالہ سے حکومت کی طرف سے پیش کردہ مسودہ قانون کومیں نے تفصیل سے پڑھا اور مشاورت کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس مسودہ قانون میں مجوزہ ترامیم کے ذریعے حکومت الیکشن کمیشن کے اختیارات کو سلب کرنا چاہتی ہے لھذااس پر میں اپنااختلافی مؤقف تفصیل کیساتھ آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ ۱۔سیکشن 2 جو کہ انتخابی علاقہ کی تعریف سے متعلق ہے،میں مجوزہ حکومتی ترامیم کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ اس سیکشن کے دو پیراگراف ختم کیے گئے ہیں، جس سے انتخابی علاقہ کی جامع تعریف کو محدود کر دیا گیا ہے ختم کیے گئے دو پیراگراف میں کہا گیا ہے جہاں وارڈ، شمارتی بلاک، محلہ یا گلی بہت بڑے ہوں وہاں پر مناسب طور پر اس کو تقسیم کرنا۔ اسی طرح شمارتی بلاک کو تقسیم نہیں کیا جائے گا، سوائے مخصوص حالات کے اوربلاک کو تقسیم کیے جانے کی وجوہات بھی ضبط تحریر لانی ہونگی۔ ۲۔ سیکشن 8 میں مجوزہ حکومتی ترامیم کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے پریزائیڈنگ آفیسر کو رزلٹ مرتب کرنے سے پہلے بھی ووٹ مسترد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ یہ اختیار ریٹرننگ آفیسر کے پاس ہے۔ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس صرف مسترد کرنے کے قابل ووٹ کو الگ کرنے کا اختیار ہے۔ لہٰذا اس ترمیم کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ۳۔ سیکشن 9 میں مجوزہ حکومتی ترامیم کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے سیکشن 9، جوکہ انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق ہے، الیکشن کمیشن کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے پہلے 60 دن ہیں۔ اب کم کرکے 30 دن کیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن نے بھی اس کی مخالفت کی ہے اس لیے کہ یہ ترمیم انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں رُکاوٹ کا باعث بنے گا۔ لہٰذا حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ۴۔ سیکشن 11 میں مجوزہ حکومتی ترامیم کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے سیکشن 11 جوکہ الیکشن کمیشن کے پاس مالی اختیارات سے متعلق ہے، اس میں حکومت نے الفاظ ”اطلاق شدہ قوانین“ کو ختم کیا ہے۔ اس حوالہ سے الیکشن کمیشن کی رائے سے اضافہ کے ساتھ اتفاق ہے۔ جس میں کہا گیا ہے ”جو بھی قواعد وضوابط بنیں وہ انتخابات ایکٹ 2017کے تابع ہوں“۔ ۵۔ سیکشن14 میں مجوزہ حکومتی ترامیم کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے سیکشن 14، جوکہ الیکشن پلان سے متعلق ہے، حکومت کی ترمیم ہے کہ لفظ ”تیاری“ کی جگہ پر ”حتمی شکل“ کے الفاظ ڈالے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے بھی مخالفت کی ہے، ہمارا موقف ہے کہ لفظ تیاری زیادہ جامع اور مناسب ہے اسکو ترمیم نہیں کرنا چاہیے۔ ۶۔ سیکشن 15 میں مجوزہ حکومتی ترامیم کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے سیکشن 15 جوکہ شکایات سے متعلق ہے۔ اس میں ترمیم کے ذریعے پابندی لگائی گئی ہے کہ الیکشن دن سے پہلے تک کی شکایت کے خلاف الیکشن کمیشن کو درخواست صرف پولنگ کے دن سے پہلے ہی دی جاسکتی ہے یعنی الیکشن تنازعات کے سوا کسی اور شکایت کے معاملہ کو الیکشن دن کے بعدنہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ ترمیم کرپشن اور اقربا پروری اور کسی بھی بے ضابطگی کو تحفظ دینے کی طرف قدم ہے، لہٰذا بھرپور مخالفت کی جاتی ہے۔ ۷۔ سیکشن 17 میں مجوزہ حکومتی ترامیم کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے سیکشن 17 جوکہ حلقہ بندیوں کے حوالہ سے الیکشن کمیشن کے اختیار سے متعلق ہے۔ ترمیم کے ذریعے حکومت نے حلقہ بندیوں کو آبادی کی بجائے ووٹرز کی بنیاد پر کرنے کی ترمیم دی ہے، جوکہ آئین کے آرٹیکل 51 سے متصادم ہے۔ اس طرح الیکشن پروگرام کے اعلان کے چار ماہ قبل حلقہ بندیوں کو حتمی شکل دینے کی مکمل پابندی بھی ناقابل عمل ہے۔ ۸۔ سیکشن 20 میں مجوزہ حکومتی ترامیم کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے سیکشن 20 حلقہ بندیوں کے لیے اصول و ضوابط سے متعلق ہے۔ اس میں تجویز کیا گیا ہے کہ ووٹرز کی بنیاد پر حلقہ بندیوں میں 10 کی بجائے 5 فیصد تک تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ اس سے قبل ہم سیکشن 17 میں آبادی کی بجائے ووٹرز کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کی مخالفت کرچکے ہیں۔ لہٰذا یہاں بھی یہی مؤقف ہے۔ ۹۔ سیکشن 21 میں مجوزہ حکومتی ترامیم کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے سیکشن 21 جوکہ حلقہ بندیوں کے حوالہ سے الیکشن کمیشن کی رپورٹ سے متعلق ہے۔ اس میں حلقہ بندیوں پر اعتراض کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اس سے قبل الیکشن کمیشن کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے لیکن اب اسکے ذریعے فیصلہ پر اعتراض کی صورت میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جاسکتی ہے جوکہ انتخابات میں تاخیر کا باعث بنے گی۔ ۰۱۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح الیکشن ایکٹ 2017کے سیکشن 24، 26، 28، 29، 30، 31، 32، 33،34، 36اور 44 کوحکومت نے ختم کیا ہے۔ مذکورہ حذف کی جانے والے سیکشنز کی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ختم کی گئی دفعات ریٹرننگ آفیسر کی تقرری، ابتدائی ووٹر لسٹوں کی تیاری، نظرثانی اتھارٹی کی تقرری کا اختیار، اعتراضات داخل کرنے کی مدّت، ایک انتخابی علاقہ سے دوسرے انتخابی علاقہ میں ووٹ اندراج کا اختیار، ریٹرننگ آفیسر کو نام فائنل کرنے کا اختیار، شکایات اور اعتراضات کی انکوائری،سالانہ بنیادوں پر ووٹر لسٹ کی تیاری، نادرا کے ساتھ معلومات کی سکریننگ کے اختیارسے متعلق ہے۔ ان دفعات کو حذف کرنے سے مذکورہ تمام اختیارات الیکشن کمیشن سے حکومت اور نادرا کو منتقل ہوجائیں گے جس سے الیکشن کمیشن کی اتھارٹی بری طرح متاثر ہوگی اور الیکشن کمیشن کے پاس آزاد،شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کرانے کی صلاحیت اور اختیارات لے لیے گئے ہیں۔ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ حکومت الیکشن کمیشن کے کام کو اپنے ذمہ لے کر الیکشن کمیشن کی خودمختاری کے خلاف منصوبے بناری ہے۔ یہ انتخابی اصلاحات کے نام پر فراڈ کے مترادف ہے اور آئین کے آرٹیکل 212، 219(9) کی خلاف ورزی ہے، اور پورے انتخابی عمل میں متعلقہ اصل ادارے الیکشن کمیشن کو بے دخل اور ناکام کرنے کی طرف اقدامات ہیں۔ووٹر لسٹوں کی تیاری کا کام الیکشن کمیشن سے لے کر نادرا کو دینا، جوکہ وزارتِ داخلہ کے ماتحت ہے، یہ ایک ہائی پروفائل سرکاری ادارے کو دوسرے سرکاری ادارے کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہے۔ ووٹر لسٹوں کی تیاری کا اختیار اگر الیکشن کمیشن سے واپس لے لیا جائے تو الیکشن کمیشن بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔ جبکہ آرٹیکل 220 کے تحت نادرا سمیت تمام ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔ ۱۱۔اسی طرح سیکشن 35، 43، 53 میں کی گئی حکومتی ترامیم کا تعلق ان سیکشن سے ہے جو حذف کیے گئے ہیں۔ہم پہلے ہی اس کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ۲۱۔انہوں نے کہا ہے کہ اسی طرح سیکشن 61کے ذیلی سیکشن (۱)میں قومی اسمبلی کے لیے فارم جمع کراتے وقت فیس تیس سے بڑھا کر پچاس ہزار کی گئی ہے اور صوبائی اسمبلی کے لیے فیس بیس ہزار سے بڑھا کر تیس ہزار کی گئی ہے۔اس کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ ۳۱۔انہوں نے کہا ہے کہ سیکشن 94 جوکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیون کے ووٹ میں حصہ لینے کے سے متعلق ہے، اس سے قبل قانون میں ہے کہ پائلٹ پراجیکٹ کے ذریعے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے کوشش کی جائے گی۔موجودہ حکومت نے اس حوالہ سے ابھی تک قانون پر عملدرآمد کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کی۔ جب تک پائلٹ پراجیکٹ نہیں کیا جاتا، موجودہ حکومتی ترمیم کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ۴۱۔اسی طرح سیکشن 122 جوکہ سینیٹ کے ممبران کے ووٹ کے طریقہ کار سے متعلق ہے، حکومتی ترمیم ہے کہ سینیٹ ووٹنگ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ خفیہ ہی رہنی چاہیے۔ ۵۱۔سیکشن 202 جوکہ پارٹیوں کی رجسٹریشن کے بارے میں ہے۔ پہلے 2 ہزار ممبرز کی شرط ہے۔ اب اس کو 10 ہزار ممبرز کردیا گیا ہے۔ اس میں 25 فیصد خواتین ہونی چاہیے۔ الیکشن کمیشن نے 10بھی ہزار کی مخالفت کی ہے۔ہم اس ترمیم کی مخالفت کرتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کو آئین کے تحت دیے گئے حقوق کو قانون کے ذریعے محدودنہیں کیا جاسکتا۔خواتین کی نشتوں کے معاملہ کو سیاسی جماعت کے اندر ان کے خواتین ونگ کی صوابدید پر چھوڑنا چاہیے۔ ۶۱۔انہوں نے کہا ہے کہ سیکشن 221اور اسکے ذیلی سیکشنزمیں کی گئی ترامیم کا تعلق ووٹرز کی بنیاد پر حلقوں سے تعلق ہے۔جبتک ہر شہری کے لیے ووٹ ڈالنے کو لازم نہیں کیا جاتا۔ووٹ کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور ووٹرز کی بنیاد پر حلقہ بندیوں سے کم ووٹرز والی آبادی بنیادی حقوق کی فراہمی کے حوالہ سے متاثر ہوگی۔اس لیے ہم نے پہلے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ مذکورہ مؤقف مولانا عبدالاکبر چترالی کی طرف سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس مؤرخہ 08جون2021میں جمع کرایا گیا ہے۔

حکومت مخالف تحریک،پی ڈی ایم اور جماعت اسلامی کا طرزعمل

جماعت اسلامی پاکستان حکومت مخالف تحریک میں پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں بلکہ الگ تحریک چلارہی ہے۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان و قیادت شاکی ہے کہ کیوں نہ جماعت اسلامی نے ان کے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک میں حصہ لیا؟جماعت اسلامی اس حوالے سے اپنا ایک نقطہ نظر رکھتی ہے،اور وہ نقطہ نظر بہت وزنی ہے جس کی تائید گذشتہ روز ایک سروے رپورٹ نے بھی کردی جس کا اہتمام پلس کنسلٹنٹ نے کیا تھا،جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق53 % لوگوں نے جماعت اسلامی کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کی موجودہ سیاسی و مذہبی پارٹیوں سے مختلف ہے،یہاں فیصلے کوئی فرد واحد نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے مجلس شوریٰ کا فورم موجود ہے،جبکہ ملک کی تینوں بڑی پارٹیوں کو ہی لے لیں تو یہ بات واضح ہے کہ ان کے فیصلے فرد واحد ہی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں،کارکنان اور پارٹیاں اس فرد واحد کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔سب سے نمایاں فرق یہ ہے کہ ان پارٹیوں میں ہونے والے فرد واحد کے غلط فیصلوں کا خمیازہ زیادہ تر کارکنان اور نچلی سطح کی قیادت کو بھگتنا پڑتا ہے جبکہ جماعت اسلامی میں فیصلہ سازی کے عمل میں چونکہ کارکنان بھی کسی نہ کسی شکل میں شامل ہوتے ہیں اس لئے غلط نتائج کا خمیازہ بھی سب مل کر بھگتتے ہیں اور یوں قیادت کو اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک بدر بھی نہیں ہونا پڑتا۔

جماعت اسلامی کی موجودہ تحریک اور اس سے قبل کی ساری جدوجہد محض حکومت کی تبدیلی یا چہروں کی تبدیلی کے لئے نہیں ہے،جماعت اسلامی کی تحریک کامیاب ہوجائے اور موجودہ حکومت چلی بھی جائے تو کیا فرق پڑے گا؟ کچھ بھی نہیں۔جماعت اسلامی موجودہ استحصالی نظام اور اس کے سرپرستوں کے خلاف جدوجہد کررہی ہے اور جماعت اسلامی کی موجودہ تحریک کا پس منظر بھی یہی ہے۔ہمارا مؤقف ہے کہ جب تک یہ نظام تبدیل نہیں ہوگا چہرے بدلنے سے ملک و قوم کی حالت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی۔گذشتہ73 سال یہی لوگ مختلف پارٹیوں کے ذریعے باری باری برسراقتدار رہے ہیں۔ملک و قوم کی تباہ حالی کے ذمہ دار ہیں اور ان سے کسی تبدیلی یا بہتری کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔پاکستان میں انتخابی نظام پر بھی بہت سے سوالیہ نشان ہیں،یہ نظام امیر ترین یعنی اشرافیہ کو تو مکمل طور پر سپورٹ کرتا ہے لیکن عام اور متوسط طبقہ کو یہ دیوار کے ساتھ لگاتا ہے۔ملکی تاریخ میں جن پارٹیوں نے حکومت کی ہے اس میں شامل لوگوں کا جائزہ لیا جائے تو انکشاف ہوگا کہ قیام پاکستان سے جو خاندان اقتدار میں تھے آج بھی وہی خاندان اقتدار میں ہیں،البتہ ان میں اضافہ ہوا ہے کہ کچھ نئے سرمایہ دار اس گیم میں مزید شامل ہوئے ہیں۔پاکستان میں الیکشن سرمایہ کاری کا کھیل بن چکا ہے،سرمایہ دار،سیاسی پارٹیوں میں سرمایہ لگاتے ہیں جس طرح ریس کے گھوڑے پر رقم لگائی جاتی ہے،فرق یہ ہے کہ ریس کا گھوڑا ہار جائے تو رقم ڈوب جاتی ہے،جیت جائے تو طے شدہ انعام ہی ملتا ہے لیکن اس ریس میں جیتنے پر کئی گنا زیادہ وصولی ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کی علیحدہ تحریک چلانے کی ایک وجہ اور بھی ہے،ماضی میں جنرل پرویز مشرف دور میں جب اے پی ڈی ایم قائم کی گئی تھی اور میثاق جمہوریت وجود میں آیا تھا۔اے پی ڈی ایم نے الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا لیکن عین وقت پر دو بڑی پارٹیوں نے اس فیصلہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اچانک الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔ماضی میں جماعت اسلامی آئی جے آئی کا حصہ رہی ہے،جن مشترکہ نکات پر جماعت اسلامی آئی جے آئی میں شامل ہوئی تھی،الیکشن جیتنے کے بعد پی ڈی ایم میں شامل ایک جماعت کے سربراہ جو اس وقت IJI کے سربراہ تھے نہ یک لخت ان وعدوں کو فراموش کردیا۔ان مشترکہ نکات میں سرفہرست اسلامی نظام (شریعت) کا نفاذ تھا۔بعد ازاں انہوں نے جو شریعت بل پیش کیا تھا اس میں اپنے دائمی اقتدار کا بندوبست شامل تھا۔1999 ء میں واجپائی دورہ کے موقع پر جو ظلم و ستم جماعت اسلامی کے کارکنان پر ڈھایا گیا وہ بھی ہنوز ہماری یادداشتوں سے محو نہیں ہوا جبکہ جماعت اسلامی نے ملک سے سودی نظام کے خاتمے لئے عدالت سے رجوع کیا تو اس کے مقابلے میں سودی نظام کے تحفظ کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم حکم امتناع کے لئے سپریم کورٹ میں چلے گئے اور ان کی درخواست ابھی تک عدالت میں موجود ہے۔جبکہ پی ڈی ایم میں شامل ایک جماعت کے سربراہ ماضی میں وعدوں کو ”یہ کوئی قرآن و حدیث“ نہیں ہیں کہ چکے ہیں۔جبکہ ان کے صاحبزادے حال ہی میں گلگت بلتستان کی الیکشن مہم میں اپنی پارٹی کا غیر اسلامی اور سیکولر تشخص کا اعلان کرچکے ہیں۔
ماضی میں جماعت اسلامی متحدہ مجلس عمل کا دو بار حصہ رہی ہے۔ایم ایم اے کے موجودہ سربراہ کے سیاسی طرز عمل اور ماضی میں دونوں بار جماعت اسلامی کے ساتھ رویہ پر صرف کارکنان جماعت اسلامی ہی نہیں ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ ان سے شاکی ہے۔پی ڈی ایم میں شامل کوئی بھی جماعت آزادنہ،منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انٹرا پارٹی الیکشن کا نہ تو نظام رکھتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ارادہ ہے،ان تمام جماعتوں میں اول روز سے موروثیت کو رواج دیا گیا ہے۔جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ جن پارٹیوں کے اندر جمہوریت کا فقدان ہے اور اقربا پروری عروج پر وہ ملک میں جمہوریت کے استحکام اور ملک و قوم کی ترقی و استحکام کے لئے کس قدر سنجیدہ ہوسکتی ہیں۔جن لوگوں نے پارٹیاں بدل بدل کر 73 سالوں میں ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اگر اب بھی وہی بر سر اقتدار آجاتی ہیں تو ان سے بہتری کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے،بے روزگاری،مہنگائی اورکرپشن عروج پر ہے،عوام بے حال و پریشان ہیں،ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،موجودہ حکومت ہر شعبہ میں ناکام ہوچکی ہے اور یہ بھی گزشتہ حکومتوں کا تسلسل ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے ان تمام سے الگ ہوکر یکسوئی کے ساتھ اپنی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور کے پی کے میں چار بھرپور جلسے کرنے کے بعد اب پنجاب کا رخ کرے گی۔جماعت اسلامی کا مؤقف یہ ہے کہ ”اسی عطار کے لونڈے سے دوا“ کیوں لیں ”جس کے سبب بیمار ہوئے ہیں“.

پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جمہوریت کے استحکام اور ملک و قوم کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہی ہیں. ان میں شامل دو بڑی جماعتوں کے سربراہان پر کرپشن، منی لانڈرنگ سمیت کئی الزامات ہیں. انہیں بچانے کیلئے یہ ساری تگ و دو ہے. یہی وجہ ہے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پی ڈی ایم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس بات کی خواہش مند ہیں کہ جماعت اسلامی ان کے ساتھ شامل ہو جائے تو پی ڈی ایم والے اپنی تحریک ختم کرکے جماعت اسلامی کی تحریک میں شامل کیوں نہیں ہو جاتے.

پاکستان کی 53 فیصد عوام نے ہمارے اس فیصلہ کی حمایت کی ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں

اور درخواست گزار ہیں کہ آئیں جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر اس فرسودہ نظام کو زمیں بوس کردیں اور حقیقی معنوں میں ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی حکومت کا قیام عمل میں لائیں جو ہماری امنگوں کے عین مطابق ہو۔حقیقی تبدیلی کے لئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔کیونکہ ؎
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

جماعت اسلامی کی تحریک، عوامی رسپانس اور کارکنان کے فرائض…

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق دیرپائن میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے.

جماعت اسلامی نے چوتھا پڑاؤ دیرپائن کے ریسٹ ہاؤس گراؤنڈ میں ڈالا اور پہلے تینوں پڑاؤ کے ریکارڈ توڑ ڈالے، پہلا جلسہ باجوڑ میں تھا جس میں باجوڑ کے عوام نے دل کھول کر جماعت اسلامی کو خوش آمدید کہا اور جلسے میں شرکت کی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، یہ ایک عوامی سمندر تھا جو امڈ آیا تھا، واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے یہ جلسہ عام تن تنہا منعقد کیا اور اس میں صرف ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا دیگر اضلاع سے لوگوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی. جماعت اسلامی نے دوسرا جلسہ بونیر میں کیا، اس دوسرے جلسہ عام کی

دیر پائین جلسہ عام کا ایک منظر

انفرادیت یہی تھی کہ صرف متعلقہ ضلع کے لوگوں کو ہی شریک کرایا گیا اور جماعت اسلامی نے تن تنہا جلسہ گاہ کو اس طرح بھردیا کہ پہلے جلسے کا ریکارڈ توڑ دیا. اس کے مقابلے میں پی ڈی ایم جتنے جلسے کررہی ہے اسے جلسہ گاہوں کو بھرنے کے لئے کافی تگ و دو کرنی پڑتی ہے،گیارہ جماعتی اس اتحاد کو الیکٹرانک میڈیا پر کوریج بھی جماعت اسلامی سے زیادہ مل رہی ہے لیکن اس کے باوجود جماعت اسلامی کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو رہا ہے. جماعت اسلامی نے تیسرے جلسے کا اعلان سوات کے گراسی گراؤنڈ پر کیا تھا لیکن پی ٹی آئی حکومت پہلے دو جلسوں سے ہی گھبرا گئی اور جلسے کے انعقاد کی اجازت نہ دے کر سوچا کہ جماعت اسلامی کو دبالیں گے لیکن جماعت کی قیادت نے سوات ہائی کورٹ بنچ سے رجوع کیا اور جلسہ کی اجازت حاصل کرلی، یہ جلسہ پہلے دونوں

سوات جلسہ عام کا منظر

جلسوں سے بڑا ثابت ہوا، جماعت نے دیر پائین میں اپنے چوتھے جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ یہ جلسہ عام پہلے تینوں جلسوں سے بڑا ہوگا اور جماعت اسلامی دیر پائین نے اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کردیا. ان چاروں جلسوں کے دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب کی والدہ محترمہ بھی وفات پا گئیں، جناب سینیٹر سراج الحق صاحب اس حوالے سے بھی مصروف رہے دریں اثناء امیر جماعت اسلامی نے منصورہ جماعت اسلامی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں 11 نکاتی عوامی چارٹر کا اعلان بھی کیا، یہ عوامی چارٹر عوام کے تمام بڑے مسائل کا نہ صرف احاطہ کرتا ہے بلکہ ملک کو داخلی اور

جماعت اسلامی کا 11 نکاتی عوامی چارٹر

خارجی، سیاسی، سماجی ،معاشرتی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کا حل بھی پیش کرتا ہے. آج کے جلسے میں جناب سینیٹر سراج الحق صاحب نے دو ہفتوں کے لئے کرونا کی وجہ سے تمام عوامی جلسوں کو روکنے کا اعلان کرتے ہوئے، دوہفتے بعد پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ سے دوبارہ تحریک کے آغاز اور جلسہ عام کے انعقاد کا اعلان بھی کیا ہے.
جماعت اسلامی کے ان چاروں کامیاب پاور شوز کے بعد ملک بھر کے تحریکی کارکنان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اب غیرفعالیت کے لحاف سے نکلیں اور عوام کے دروازوں اور دلوں پر دستک دیں. اس وقت ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہوچکا ہے، اگر جماعت اسلامی چاہے تو یہ خلاء پر کرسکتی ہے شرط یہ ہے کہ اس کے کارکن کو ایگریسو ہونا پڑے گا، ایگریسو سے مراد خدانخواستہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ کارکنان ڈنڈے سوٹے اٹھالیں بلکہ ایگریسو اس لحاظ سے کہ وہ اب گھروں سے نکلیں، اپنے واضح اور دوٹوک بیانیہ کو عوام تک پہنچائیں. جماعت اسلامی کے ماہانہ چاراجتماعات ہوتے ہیں جن میں ایک پروگرام دعوتی وفود کا ہے، جماعت کے کارکنان اسے باقاعدہ اور مربوط بنائیں، اگلے چند ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے، وفود کی شکل میں گھر گھر لوگوں تک پہنچا جائے، خاص طور پر یہ

دیر پائین میں جلسہ عام کا ویڈیو منظر

جو دو ہفتے کا وقفہ رکھا گیا ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تنظیمی ایمرجنسی کے ذریعے اگلے 15 سے 20 دن لوگوں تک 11 نکاتی عوامی چارٹر پہنچایا جائے. میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے کارکنان جنگی بنیادوں پر اس طرح متحرک ہو جائیں تو صرف یہی نہیں کہ جماعت اسلامی سیاسی منظر نامے پر ایک نئے انداز میں ابھرے گی بلکہ مقتدر قوتوں کے لئے اس کا راستہ روکنا بھی اتنا آسان نہیں ہوگا.
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے.

سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کے خلاف حکومتی اقدامات

ایک دور تھا جب پاکستان میں صرف پی ٹی وی کا طوطی بولتا تھا، یا پھر ریڈیو پاکستان سے ہوا کی لہروں پر پاکستان کی عوام کو "باخبر” رکھا جاتا تھا یا اخبارات کے ذریعے ملک کے حالات لوگوں تک پہنچتے تھے. سرکاری ٹی وی اور ریڈیو وہی کچھ دکھاتا اور بتاتا تھا جو حکومت چاہتی تھی جبکہ اخبارات قدرے آزاد تھے تاہم پرنٹ میڈیا کے ذریعے عوام تک خبر پہنچتے پہنچتے باسی ہو جاتی تھی.پھر حالات نے انگڑائی لی اور نجی ٹی وی چینلز کا دور آیا.یہ چینلز آئے اور چھا گئے. نجی ٹی وی چینلز نے پی ٹی وی کی اجارہ داری کا خاتمہ کر دیا اور لوگوں تک پل پل کی خبریں پہنچنے لگیں، یہ چینلز وہ کچھ بھی دکھانے لگے جو سرکار اس سے قبل سرکاری ٹی وی پر نہیں دکھاتی تھی تاہم پھر بھی نجی ٹی وی چینلز بہت کچھ نہیں دکھاتے تھے،چینل، ریڈیو اور اخبار سرکاری ہو یا نجی بہرحال عوام وہ کچھ دیکھنے سے محروم تھے جو وہ دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن سوشل میڈیا نے ان سب کی اجارا داری کا خاتمہ ہی نہیں کر دیا بلکہ ان کے لیے چیلنج بھی بن گیا کیونکہ اس کا ریموٹ استعمال کرنے والے کے ہاتھ میں ہے.ایک اندازے کے مطابق ملک میں 20 کروڑ افراد اینڈرائیڈ موبائل استعمال کرتے ہیں.اینڈرائیڈ ٹی وی چینلز کو ماضی کا قصہ بنانے جا رہا ہے.
اب سوشل میڈیا پر ہی لوگ وہی کچھ دیکھ اور پیش کر رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں. جلد ہی وہ دور آنے والا ہے جب سوشل میڈیا ہی الیکٹرانک میڈیا کی جگہ مکمل طور پر لے لے گا اور الیکٹرانک میڈیا کی افادیت محض آج کل کے پرنٹ میڈیا جتنی ہی رہ جائے گی.
سرکار پہلے ہی نجی چینلز سے پریشان تھی اوپر سے سوشل میڈیا نے تو سرکار کی نیندیں ہی حرام کر دیں، حالانکہ اقتدار کی مسند تک پہنچنے کے لئے موجودہ سرکار نے سوشل میڈیا کو بطور ایک مؤثر ہتھیار کے استعمال کیا اور اب بھی یہ استعمال جاری ہے.
سوشل میڈیا پر وہ کیا چیز ہے جو دستیاب نہیں ہے. سوشل میڈیا صارف جس قسم کا مزاج اور رجحان رکھتا ہے یہاں اپنے رجحانات کے مطابق اسے مطلوبہ مواد مل جاتا ہے. یہاں آپ کو ذاتی سرگرمیوں کے علاوہ سیاسی، سماجی، مذہبی، صحافتی ،تجارتی غرض ہر طرح کا مواد تھوک کے حساب سے ملے گا. سوشل میڈیا کا مؤثر و مثبت استعمال بھی ہے اور منفی بھی، موجودہ سرکار سے وابستگان کشتگان انقلاب سب سے زیادہ اسے مخالف پارٹیز کی پگڑیاں اچھالنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں، اردو کا محاورہ ہے "جیسا کرو گے، ویسا بھروگے، اسی طرح کشش ثقل کا نیوٹن کا ” ہر عمل کا ردعمل” والا اصول سوشل میڈیا پر خاص طور پر موجودہ حکومت کے حوالے سے صادق آتا ہے، جو کچھ کیا گیا اور جن کے خلاف کیا گیا وہاں سے اضافے کے ساتھ واپس آرہا ہے، چنانچہ سننے میں آرہا ہے کہ اب سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی خیر نہیں ہے، حکومت اب ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے جا رہی ہے، مشرف دور میں نجی ٹی وی چینلز اور معروف اینکر پرسنز پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، لیکن بالآخر یہ پابندیاں ختم کرنا پڑیں، ان پابندیوں کے خاتمے کے لئے صحافتی تاریخ میں ایک عظیم الشان جدوجہد کی گئی، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر قدغنیں لگانا قدرے آسان ہے لیکن سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ) کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ سوشل میڈیا کا ہیڈکوارٹر کہیں اور ہے وہاں ہماری حکومت کی دال نہیں گلتی، سو اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کے خلاف ہی کارروائی کی جائے، کریک ڈاؤن کا اعلان حکومتی سطح پر کیا جا چکا ہے، ہم خود ایسے مواد کے خلاف ہیں جو اسلام کے اخلاقی و شرعی اصولوں اور احکامات کے خلاف ہو، جس میں اسلام، پاکستان، نظریہ پاکستان اور جملہ مذاہب کی برگزیدہ ہستیوں پر طعن و تشنیع کی گئی ہو.
ہم ہر ایسی تحریر اور پوسٹ کے خلاف ہیں جس میں ایڈوب فوٹو شاپ کے ذریعے سیاستدانوں(چاہے وہ اہل اقتدار ہیں یا حزب اختلاف)، مذہبی و سماجی شخصیات کے چہرے بگاڑ کر پیش کئے جاتے ہیں، ایسی پوسٹس جن میں فوج اور سلامتی کے دیگر اداروں کے خلاف جھوٹی، بے سروپا اور من گھڑت باتیں کی گئی ہوں وہ بھی قابل مذمت ہیں، اسی طرح ذاتی یا سیاسی مفاد کی خاطر من گھڑت اور جھوٹے الزامات کے ذریعے سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے والی پوسٹس اپلوڈ کرنے والوں کے خلاف حکومتی اقدامات کی ہم تائید کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ باور کرانا بھی مقصود ہے کہ اگر حکومت سوشل میڈیا پر اپنے اوپر تنقید کو برداشت نہیں کر پا رہی اور اس کا حوصلہ اور اعصاب جواب دے گئے ہیں چنانچہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف پیدا ہونے والے ردعمل کو دبانے کے لئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں تو معاف کیجئے گا حکومت سخت غلطی پر ہے.
حکومت کو سوشل میڈیا پر قدغنیں لگانے سے قبل سوشل میڈیا صارفین کو اس بات کی یقین دہانی کرانی چاہیے کہ وہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو زیرعتاب نہیں لائے گی.
ویسے اگر آزادی اظہار رائے کے بین الاقوامی اصول کے تحت دیکھا جائے تو حکومت کے یہ اقدامات درست نہیں ہیں، تاہم اگر حکومت واقعی یہ کریک ڈاؤن صرف ان عناصر کے خلاف کرنا چاہتی ہے جو جھوٹ، منافرت اور انتشار پر مبنی پوسٹس لگاتے ہیں تب بھی حکومت کو سائبر کرائم ایکٹ کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہئے اور صرف وہی لوگ ہی اس کریک ڈاؤن کا شکار بنیں جو سائبر کرائم ایکٹ کے تحت واقعی آتے ہیں.
اگر حکومت نے خود پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس کا ردعمل حکومتی توقعات سے کہیں بڑھ کر سامنے آئے گا اور حکومت اس ردعمل کو برداشت نہیں کر سکے گی. ماضی میں پرویز مشرف حکومت نے بھی الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے پابندیاں عائد کی تھیں، حکومت کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے پرویز مشرف دور کی پابندیوں کو بھی دیکھ لے.
حکومت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ملک کے اندر تو کریک ڈاؤن کر کے اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبا لے گی لیکن بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور آزادی اظہار رائے کے حق میں کام کرنے والی تنظیموں کی آوازیں کیسے دبائی گی؟
حکومت کی کوئی بھی ایسی کوشش یا عمل جس میں اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کا تاثر سامنے آیا تو بین الاقوامی سطح پر ملک کا امیج خراب ہو گا اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جہاں عوام کو اپنی رائے کے اظہار کی اجازت نہیں ہے.

ففتھ جنریشن وار اور ہم

غلغلہ ہے کہ دنیا میں پانچویں نسل کی جنگ(ففتھ جنریشن وار) جاری ہے. یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں تیر و تفنگ، بندوق و توپ اور اس قبیل کا دوسرا خونریز اسلحہ استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ پروپیگنڈہ کے زور پر افراد یا قوم کی برین واشنگ(دماغی غسل) کے ذریعے انتشار و فساد پھیلا کر دشمن اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے.
دانشور اور تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ پاکستان بھی ففتھ جنریشن وار کی زد میں ہے. بہت سے لوگ اس سے انکار یا اس کی تردید کرتے ہیں لیکن اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ واقعی ہم بحیثیت مجموعی جہاں عمومی دہشت گردی کا شکار ہیں وہیں جنگ کی اس نئی قسم یعنی ففتھ جنریشن وار کا بھی شکار ہیں. گویا بحیثیت قوم ہمیں اپنی بقا و سلامتی کے لیے چومکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے.
ففتھ جنریشن وار جیسا کہ آپ کو بتایا ہے کہ ایک قسم کی پروپیگنڈہ مہم جوئی ہے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور آج کل سوشل میڈیا بھی شامل ہوگیا ہے کے ذریعے لڑی جاتی ہے.خیر دشمن سے تو توقع ہی یہی کی جانی چاہئے کہ وہ ہمیں چاروں شانے چت کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرے گا لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس جنگ میں ہمارے اپنے بھی دشمن کے شانہ بشانہ شریک ہیں بلکہ بعض اوقات دشمن سے بھی دو قدم آگے ہوتے ہیں.
آپ الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والے ڈرامے اور فلمیں دیکھ لیں، میوزک کے پروگرام دیکھ لیں اور ٹاک شوز اور خبریں دیکھ لیں، آپ کو ہر لمحہ دشمن کا ایجنڈا پورا ہوتا نظر آئے گا. نظریہ کسی بھی قوم کا اثاثہ اور اس کی بنیاد ہوتا ہے، جب تک قوم اپنے نظریہ سے وابستہ رہتی ہے اور اس کی حفاظت کرتی ہے تب تک دشمن اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن اگر قوم کے ذہن سے یہ نظریہ کھرچ دیا جائے، محو کر دیا جائے اور اسے لعوولعب کا رسیا بنا دیا جائے اور آستین کے سانپ کا کردار اپنے ہی ادا کرنے لگیں تو پھر دشمن کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں رہتی.
پاکستان اسلامی نظریہ کا حامل ہے اور اسی نظریہ کی بنیاد پر یہ وجود میں آیا تھا، وطن عزیز کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لیے ہمارا ازلی دشمن بھارت ہی نہیں امریکہ و اسرائیل بھی سرگرم عمل رہتے ہیں. میدان جنگ میں تو یہ اس قوم کو شکست دے نہیں سکتے اس لئے خفیہ ریشہ دوانیاں کرتے ہیں. قوم سے اس کا نظریہ چھیننے کے لئے انہوں نے نہایت کامیابی سے ففتھ جنریشن وار لڑی ہے اور اس
میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں. بدقسمتی سے اہل و وژنری قیادت کے فقدان کے باعث ہم بحیثیت قوم اس جنگ میں بہت خطرناک پوزیشن پر آکھڑے ہیں. ٹی وی چینلز کے ذریعے ہماری قوم کی کافی حد تک برین واشنگ کردی گئی ہے.
دین کے معاملے میں شکوک و شبہات پیدا کرکے، مولوی اور مدرسہ کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرکے، اسلام کے امیج کو مسخ کر کے، اور اسلامی تعلیمات میں غیر محسوس انداز میں تحریف کرکے، قوم کو اخلاقی اقدار سے ہٹا کر فحاشی اور عریانی کی طرف راغب کرکے اور قوم میں پیسے اور دولت کی حرص و ہوس پیدا کرکے دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہو چکا ہے،آپ دیکھیں کہ آج معاشرے کی صورت حال کیا ہے؟ ایک دوسرے سے لاتعلقی کا انداز، مشینوں کی طرح دن رات جائز و ناجائز طریقے سے دولت جمع کرنے کی ہوس، چھوٹی چھوٹی سی بات پر آپس کے جھگڑے، احتجاجی مظاہروں کے دوران جلاؤ گھیراؤ، املاک کو نقصان پہنچانا، دین سے دوری، یہ سب باتیں کیا ہیں، ففتھ جنریشن وار کی خبر دینے والوں کی مگر اس کے تدارک پر نہ کوئی توجہ ہے نہ ہی منصوبہ بندی، قوم کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس جنگ کو دشمن نے مسلسل جاری رکھا ہوا ہے لیکن ہمارے ارباب بست و کشاد نے شیخ سعدی کے بقول "پتھروں کو باندھ رکھا جبکہ کتوں کو کھلا چھوڑ رکھا ہے”.
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز پر فضول اور تخریبی پروگرام فوری طور پر بند کئے جائیں، دینی پروگراموں میں نام نہاد علماء کرام کی بجائے مستند اور معروف علماء کرام اور مفکرین و سکالرز کو بلایا جائے. تعلیمی نصاب سے سیکولر قسم کے مضامین خارج کر کے اسلام سے آگاہی کے مضامین شامل کئے جائیں. ٹاک شوز میں اخلاقی اقدار کی پابندی یقینی بنائی جائے اور پرنٹ میڈیا میں فحش صفحات ختم کئے جائیں. فحاشی اور فکری انتشار پھیلانے والے جرائد و اخبارات اور ٹی وی پروگراموں پر پابندی عائد کی جائے.
حب الوطنی پر مبنی پروگرام پیش کئے جائیں اور ٹی وی چینلز پر مار دھاڑ سے بھرپور فلموں پر بھی پابندی عائد کر دی جائے. مثبت فکر کو فروغ دیا جائے. اگر حکومت واقعی ففتھ جنریشن وار میں دشمن کو شکست دینے کی خواہاں ہے تو پھر اسے ٹھوس اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے نہ کہ محض چند بھاشن دے کر چین کی نیند سو جائے.

سوشل میڈیا شتر بے مہار….

سوشل میڈیا کے حوالے سے عنایت اللہ کامران کی فکر انگیز تحریر.

سوشل میڈیا شتر بے مہارآج کل سوشل میڈیا کا دور ہے.کم و بیش ہر شخص جس کے پاس سمارٹ فون ہے وہ فیس بک ضرور استعمال کرتا ہے. جبکہ جو ذرا زیادہ تعلیم یافتہ اور سوشل میڈیا کے حوالے سے اپ ٹو ڈیٹ ہیں یا میچور ہیں وہ ٹوئٹر بھی استعمال کرتے ہیں، وٹس ایپ، انسٹا گرام وغیرہ بھی بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں.

پاکستان میں سب سے زیادہ صارف فیس بک کے ہیں جو کروڑوں میں ہیں، سوشل میڈیا ایک ایسا ٹول ہے جس نے کئی بار الیکٹرانک میڈیا کی بھی ایسی تیسی کردی، چھوٹے سے موبائل نے بڑے بڑوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا.

ہر چیز کے مثبت اور منفی استعمال ہوتے ہیں، سوشل میڈیا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، بدقسمتی سے سوشل میڈیا باالخصوص فیس بک کا منفی استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، سوشل میڈیا شتر بے مہار بن چکا ہے اور حکومت پاکستان کا سائبر کرائم ایکٹ نوحہ کناں اور بے بس نظر آرہا ہے.

سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن کررہے ہیں، ان کا استعمال دیکھ کر زبان سے لاحول ولا قوۃ اور الامان الحفیظ کے الفاظ زبان سے نکلتے ہیں، گویا بندر کے ہاتھوں میں استرا آگیا ہے، اخلاقیات، دین، ایمان، شرم و حیا وغیرہ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ گھڑنے کے علاوہ شرفاء و معززین کی پگڑیاں بھی اچھالنا معمول بن گیا ہے.

سیاسی مخالفین کے استہزاء آمیز کارٹونز، فوٹوشاپ کے ذریعے ایڈٹ شدہ تصاویر کے ذریعے مخالفین کو بدنام کرنا، من گھڑت الزامات پر مبنی تحریروں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا، ایڈٹ شدہ وڈیوز کے ذریعے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ وغیرہ، مختلف طریقوں سے اپنی پارٹی کے حق میں زور صرف کیا جاتا ہے.

رونا یہ ہے کہ ان سب باتوں سے نہ تو کوئی پارٹی اپنے کارکنوں کو روکتی ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی ایسا مکینزم ہے کہ یہ سلسلہ روکا جائے. بلکہ الٹا اکثر پارٹیاں تو مخالف پارٹیوں کے خلاف اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو جھوٹا سچا مواد فراہم کر کے ایک لحاظ سے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ کوئی سیاسی، سماجی، تجارتی، صحافتی و علمی اور مذہبی شخصیت کی عزت محفوظ نہیں ہے. سوچنا یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا؟ کیا اخلاقیات اور شرم و حیا سے عاری ان نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی کوئی اخلاقی تربیت بھی کرے گا یا یہ سوشل میڈیا پر شتر بے مہار غلاظت پھیلاتے رہیں گے؟